وزیراعلیٰ پختونخوا نے ذمے داری نہیں نبھائی تو گورنر راج لگ جائیگا، فیصل واوڈا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251202-08-9
اسلام آباد (مانیٹر نگ ڈ یسک) سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے ہماری خواہش ہے فیصل کریم کنڈی ہی گورنر خیبر پختونخوا رہیں،خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سے کہوں گا کہ وہ اپنی حکومت چلائیں، ہائی کورٹ کے آرڈر کے بعد ایک انچ کی غلطی بھی اس کی ڈس کوالیفیکیشن کا سبب بن سکتی ہے، اگر خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھا سکتا تو گورنر راج کا آپشن ہونا نہیں ہے بلکہ ہو جائے گا۔ اگر اب بھی اسے عمران خان سے ملاقات کی خواہش ہے تو دیوار پر ٹکر مارتے رہیں دیوار کو کچھ نہیں ہونا اور دیوار سے کچھ نہیں ملنا۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ آپ کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ آپ سیاسی طور پر وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری کے پاس جائیں، فیلڈ مارشل موجود ہیں کمانڈ اِن کے پاس ہے، یہ ایک نوٹیفکیشن ہے آج نہیں تو کل، کل نہیں تو پرسوں ہو جائے گا، سی ڈی ایف کا تعلق سیاست سے نہیں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔