پی ٹی آئی: مشال یوسف زئی اور سلمان اکرم راجا کے درمیان پیغام رسانی پر تنازعہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا اور کور کمیٹی کی رکن سینیٹر مشال یوسف زئی کے درمیان ایک بار پھر اختلافات سامنے آگئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ تحریک انصاف کے پارلیمانی پارٹی اجلاس کے دوران پیش آیا، جہاں مشال یوسف زئی اور سلمان اکرم راجا کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، مشال یوسف زئی نے بانی پی ٹی آئی کی باتیں باہر صحیح طرح سے نہ پہنچانے کا معاملہ اٹھایا۔
ذرائع نے بتایا کہ مشال یوسف زئی نے سلمان اکرم راجا پر الزام لگایا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کا پیغام درست طور پر نہیں پہنچا رہے، جس پر سلمان اکرم راجا نے الزامات کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جن افراد کی ملاقات یا پیغام لانے کی ذمہ داری ہے وہ صحیح پیغام پہنچاتے ہیں اور ملاقات محدود ہونے کی وجہ سے مجبوراً ان افراد کی بات پر اعتماد کرنا پڑتا ہے۔
اس کے بعد مشال یوسف زئی نے اس معاملے پر مزید مؤقف دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس موضوع پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔
خیال رہےکہ یہ پہلا موقع نہیں جب مشال یوسف زئی اور سلمان اکرم راجا کے درمیان اختلافات سامنے آئے ہیں بلکہ اس سے قبل بھی دونوں کے درمیان کشیدگی کی خبریں منظر عام پر آ چکی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سلمان اکرم راجا مشال یوسف زئی کے درمیان
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔