Jasarat News:
2026-07-24@07:07:31 GMT

مولانا فضل الرحمان نے 27 ویں آئینی ترمیم کو مسترد کردیا

اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 27 ویں آئینی ترمیم کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام جمہوری اقدار اور پارلیمانی ضوابط کے خلاف ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ جے یو آئی کی مجلس شوریٰ نے اس معاملے میں متفقہ طور پر موقف اختیار کیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے یاد دلایا کہ کچھ عرصہ قبل 26 ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیابی سے مکمل ہوئے تھے، اس وقت تحریک انصاف بھی شراکت دار تھی۔ جے یو آئی نے ان کی تجاویز پر غور کیا اور ان پر عملدرآمد کرایا، جس کی بنیاد پر 26 ویں ترمیم متفقہ طور پر منظور ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اپوزیشن سے مشاورت کے بجائے جبری اور جعلی دو تہائی اکثریت کے ذریعے 27 ویں ترمیم کو آگے بڑھایا، جو آئینی اور جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔

جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ اصولی طور پر وہ آئینی عدالت کے حق میں تھے، لیکن حکومت نے آئینی بینچ کو بھی دبا کر معاملہ پارلیمنٹ کے ضوابط کے خلاف کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ آئین ایک متفقہ معاہدہ ہے اور جے یو آئی نے بارہا ایوان میں آئین کے تحفظ کے لیے آواز بلند کی۔

مولانا فضل الرحمان نے سابق صدر آصف علی زرداری کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آٹھ سال جیل میں رہ کر الزامات کا سامنا کیا، جبکہ آج انہیں بتایا جا رہا ہے کہ ان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں ہو سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت عدلیہ کو اپنے قبضے میں رکھنے کی کوشش کر رہی ہے اور 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد آزاد عدلیہ کا تصور خطرے میں پڑ جائے گا۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان نے ویں آئینی ترمیم جے یو آئی کے خلاف کہا کہ

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن