data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا  ہے کہ واشنگٹن شام میں نئی قیادت کے تحت ہونے والی پیش رفت سے بہت مطمئن  ہے اور امریکی حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے کہ شام ایک مستحکم اور خوشحال ملک بنے۔

ٹرمپ نےکہا کہ شام کی سیاسی تبدیلی کو مضبوط بنانے میں امریکی پابندیوں میں نرمی نے اہم کردار ادا کیا، جس کا شام کی قیادت اور عوام نے مثبت انداز میں خیرمقدم کیا، بہت سے سخت پابندیاں پہلے ہی ختم کی جا چکی ہیں، جن میں سینیئر شامی حکام کا امریکی اور اقوام متحدہ کی دہشت گردی سے متعلق فہرست سے نام نکالنا شامل ہے۔

امریکی صدر نے خطے میں تحمل اور امن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور شام کے درمیان مضبوط اور حقیقی مکالمہ برقرار رہنا چاہیے تاکہ شام کی ترقی اور خوشحالی میں رکاوٹ نہ آئے۔

 انہوں نے شامی صدر احمد الشراء کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے مفاد میں “اچھی چیزیں” یقینی بنانے کے لیے محنت کر رہے ہیں اور اس وقت کو مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے تاریخی موقع قرار دیا۔

واضح رہےکہ ٹرمپ کے بیان کے وقت اسرائیل نے شام میں فضائی اور زمینی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، جن میں دسمبر 2024 سے اب تک 1,000 سے زائد فضائی حملے اور 400 سے زائد سرحد پار حملے شامل ہیں جبکہ گولان ہائیٹس کے غیر مسلح علاقے پر قبضہ بھی بڑھایا گیا ہے، جو 1974 کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

شامی صدر الشراء نے واضح کیا کہ اسرائیل کے ساتھ مستقل امن کے لیے دسمبر 8 سے پہلے کی سرحدوں پر واپسی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ شامی قیادت نومبر میں واشنگٹن کا دورہ بھی کر چکی ہے تاکہ سول جنگ کے بعد علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو بڑھایا جا سکے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم