شام میں نئے قیادت کی پیش رفت قابل اطمینان ہیں، امریکی صدر
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن شام میں نئی قیادت کے تحت ہونے والی پیش رفت سے بہت مطمئن ہے اور امریکی حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے کہ شام ایک مستحکم اور خوشحال ملک بنے۔
ٹرمپ نےکہا کہ شام کی سیاسی تبدیلی کو مضبوط بنانے میں امریکی پابندیوں میں نرمی نے اہم کردار ادا کیا، جس کا شام کی قیادت اور عوام نے مثبت انداز میں خیرمقدم کیا، بہت سے سخت پابندیاں پہلے ہی ختم کی جا چکی ہیں، جن میں سینیئر شامی حکام کا امریکی اور اقوام متحدہ کی دہشت گردی سے متعلق فہرست سے نام نکالنا شامل ہے۔
امریکی صدر نے خطے میں تحمل اور امن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور شام کے درمیان مضبوط اور حقیقی مکالمہ برقرار رہنا چاہیے تاکہ شام کی ترقی اور خوشحالی میں رکاوٹ نہ آئے۔
انہوں نے شامی صدر احمد الشراء کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے مفاد میں “اچھی چیزیں” یقینی بنانے کے لیے محنت کر رہے ہیں اور اس وقت کو مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے تاریخی موقع قرار دیا۔
واضح رہےکہ ٹرمپ کے بیان کے وقت اسرائیل نے شام میں فضائی اور زمینی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، جن میں دسمبر 2024 سے اب تک 1,000 سے زائد فضائی حملے اور 400 سے زائد سرحد پار حملے شامل ہیں جبکہ گولان ہائیٹس کے غیر مسلح علاقے پر قبضہ بھی بڑھایا گیا ہے، جو 1974 کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
شامی صدر الشراء نے واضح کیا کہ اسرائیل کے ساتھ مستقل امن کے لیے دسمبر 8 سے پہلے کی سرحدوں پر واپسی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ شامی قیادت نومبر میں واشنگٹن کا دورہ بھی کر چکی ہے تاکہ سول جنگ کے بعد علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو بڑھایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔