سیاسی ملاقاتیں ممکن نہیں، وزیراعلیٰ کے پی نے مثبت قدم اٹھایا، فیصل واوڈا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد :سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ان کی بہنوں کی ملاقات ان کا جائز حق ہے کیونکہ وہ سیاسی کردار نہیں رکھتیں جبکہ جیل میں سیاسی ملاقاتیں فی الحال ممکن نہیں ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پرافیصل واوڈا نے کہا کہ غیر سیاسی اہلِ خانہ کو ملنے سے روکنا اصولی طور پر درست نہیں اور خوشی ہے کہ یہ قدم اٹھا لیا گیا۔
فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے گزشتہ روز ہی مشورہ دیا تھا جس کاآج فائدہ ہوگیا، سیاسی تنازعات میں دو قدم پیچھے اور ایک قدم آگے بڑھنے کی حکمتِ عملی ہی سیاسی حل کی طرف لے جاتی ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اڈیالہ جیل اور اسلام آباد میں کوئی تصادم پیدا نہ کرکے مثبت فیصلہ کیا اور حالات کو بگاڑنے کے بجائے تحمل کا مظاہرہ کیا۔
سینیٹر واوڈا کا کہنا تھا کہ بہنیں غیر سیاسی ہیں اس لیے ان کا عمران خان سے ملاقات کرنا ممکن ہوا، جیل میں سیاسی نوعیت کی ملاقاتوں کی اجازت بدستور نہیں دی جا رہی۔
اپنے بیان میں انہوں نے میران شاہ کے حالیہ واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بہادر افسر کو بے رحمی سے شہید کیا گیا اور اس واقعے کی ذمہ داری وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر عائد ہوتی ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا شہید افسر کے اہلِ خانہ سے ملاقات کریں اور ان کی داد رسی کریں۔
فیصل واوڈا نے گورنر خیبرپختونخوا کو بھی یہی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم اپنے شہداء کے لیے کھڑے نہیں ہوں گے تو کون کھڑا ہوگا؟ انہوں نے دونوں شخصیات پر زور دیا کہ وہ شہداء کو عزت اور تکریم دینے کے لیے خود اہلِ خانہ کے پاس جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیصل واوڈا نے انہوں نے
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ