18 سال بعد سندھ کو نیشنل گیمز کی میزبانی ملنا خوش آئند ہے: اولمپئن ارشد ندیم
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
پیرس اولمپکس 2024 کے گولڈ میڈلسٹ اولمپین ارشد ندیم نے کہا ہے کہ 18 سال بعد سندھ کو نیشنل گیمز کی میزبانی ملنا خوش آئند ہے۔ کراچی کے لیے یہ بڑی اعزاز کی بات ہے کہ یہاں پر نیشنل گیمز کا انعقاد ہو رہا ہے۔
سندھ کے وزیر کھیل سردار محمد بخش خان مہر کے ہمراہ نیشنل اسٹیڈیم کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اولمپین ارشد ندیم نے کہا کہ نیشنل گیمز قومی کھیلوں میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ نوجوانوں کے لیے یہ کھیل اہمیت کے حامل ہیں،اہلیان کراچی سے گزارش ہے کہ وہ ہفتے سے شروع ہونے والے 35 ویں نیشنل گیمز کے مقابلوں کو ذوق و شوق کے ساتھ دیکھیں، کھلاڑیوں اور کھیلوں کی سرپرستی کریں۔
اولمپین ارشد ندیم نے کہا کہ نیشنل گیم جیسے مقابلوں کا تسلسل کے ساتھ انعقاد ضروری ہے۔
انہوں نے پرتپاک خیر مقدم اور مہمان نوازی پر حکومت سندھ خاص طور پر وزیر کھیل کا شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر اولمپین ارشد ندیم کو سندھ کی روایتی ٹوپی اور اجرک پہنائی گئی اور تحائف پیش کیے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اولمپین ارشد ندیم نیشنل گیمز
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔