قائداعظم ٹرافی 2025، کراچی بلیوز نے ٹائٹل جیت لیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
کراچی بلیوز نے قائداعظم ٹرافی 2025 کا فائنل جیت کر ٹائٹل اپنے نام کرلیا ہے۔
قذافی اسٹیڈیم لاہور میں قائد اعظم ٹرافی کے فائنل میں عبد اللہ فضل اور ہارون ارشد کی شاندار سنچریوں نے کراچی بلیوز کو قائداعظم ٹرافی 2025-26 کا ٹائٹل جتوانے میں مدد دی، ثاقب خان کی شاندار بولنگ نے بھی کراچی بلیوز کو فائنل جیتنے میں مدد دی، جنہوں نے دوسری اننگز میں 5 اور میچ میں مجموعی طور پر 9 وکٹیں حاصل کیں۔
یہ بھی پڑھیں: کون سے 4 قومی کرکٹرز قائداعظم ٹرافی کے ابتدائی راؤنڈ میں ایکشن میں نظر آئیں گے؟
اس فتح کے ساتھ کراچی بلیوز نے ٹورنامنٹ کی تاریخ میں اپنا تیسرا ٹائٹل اپنے نام کر لیا، جبکہ سیالکوٹ اپنے ٹائٹل کا دفاع کرنے میں ناکام رہا۔
533 رنز کے مشکل ہدف کے تعاقب میں سیالکوٹ کی ٹیم آخری دن 314 رنز پر آؤٹ ہوگئی، ثاقب خان نے اوپنر ازان اویس کو صرف 11 رنز پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر کے شروعات کی اور ان کا جادو پورے میچ میں برقرار رہا۔
ابتدائی نقصان کے بعد عبد اللہ شفیق اور محمد حریرہ نے 46 رنز کی شراکت داری کی، جس سے ٹیم کا مجموعہ 81 تک پہنچا۔
یہ بھی پڑھیں: فرسٹ کلاس کرکٹ رونق 26 اکتوبر سے شروع ہوگی، قائداعظم ٹرافی کے شیڈول کا اعلان
عبد اللہ شفیق نے مضبوط مزاحمت دکھائی اور مڈل آرڈر کے بلے بازوں کے ساتھ متعدد پارٹنرشپس جوڑیں، تاہم وہ 98 گیندوں پر 59 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے، جن میں 5 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔
ثاقب خان نے محمد حسنین کو بولڈ کر کے کراچی بلیوز کو یادگار فتح دلائی۔ ثاقب خان نے 20.
میچ کی بہترین کارکردگی پر عبد اللہ فضل، جنہوں نے فائنل میں 88 اور 114 رنز بنائے، کو پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ثاقب خان سیالکوٹ عبداللہ فضل قائداعظم ٹرافی کراچی بلیوز ہارون ارشد
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سیالکوٹ عبداللہ فضل قائداعظم ٹرافی کراچی بلیوز ہارون ارشد قائداعظم ٹرافی کراچی بلیوز عبد اللہ
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک