بارڈر بندش سے بلوچستان کے لاکھوں افراد بے روزگار ہو گئے ہیں، رحیم آغا
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
کوئٹہ میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے انجمن تاجران کے رحیم آغا نے کہا کہ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ عوام کو معاشی بدحالی سے نکالے، بارڈرز فوری طور پر کھولے جائیں، ورنہ عوام احتجاج پر مجبور ہونگے۔ اسلام ٹائمز۔ انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم آغا نے بلوچستان اور افغانستان بارڈر کی بندش کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت فوری طور پر ایسی جامع اور مستقل بارڈر پالیسی تشکیل دے جو پاکستان اور افغانستان دونوں کے مفاد میں ہو اور تاجروں کو مزید مالی نقصان سے بچایا جاسکے۔ انہوں نے کوئٹہ میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں صنعتیں اور دوسرا کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے، جس کی وجہ سے یہاں کے لوگ صدیوں سے تجارت اور روزگار کیلئے بارڈرز پر ہی انحصار کرتے آئے ہیں۔ مگر بارڈرز کی بندش کی وجہ سے لاکھوں افراد بے روزگار اور ان کے گھروں میں فاقہ کشی ہے۔ بارڈر کھولنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر حکومت نے بروقت عملی اقدامات نہ کیے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ بارڈرز کی بار بار اور بغیر پیشگی اطلاع بندش نے ہزاروں تاجروں و مزدوروں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ پاک افغان بارڈر پر اس وقت سینکڑوں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈر پھنسے ہوئے ہیں، جو روزگار یا اپنے اہل خانہ سے ملنے گئے تھے۔ بارڈر بند ہونے کے باعث ان کی واپسی نہیں ہو پا رہی ہے۔ بارڈر بندش نے انسانی رشتوں کو بھی متاثر کر دیا ہے۔ اچانک بارڈر بند کرنا نہ صرف قابل مذمت بلکہ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ عوام کو معاشی بدحالی سے نکالے، بارڈرز فوری طور پر کھولے جائیں، ورنہ عوام احتجاج پر مجبور ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
انور عباس:پاکستان میں اطالوی سفیر ماریلینا آرمیلین نے کہا ہے کہ آئندہ تین برس میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت اٹلی میں روزگار کے مواقع ملیں گے، اٹلی امریکہ ایران تنازع میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کی بھرپور حمایت کرتا ہے، سال 2025-2026 کے لئے 3200 پاکستانی طلباء کو اطالوی جامعات میں تعلیم کے لئے وظائف فراہم کئے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
پاکستان میں اطالوی سفارت خانے کے زیر انتظام 80 ویں اٹلی ڈے ہر عشائیے کا انتظام کیا گیا جس میں متعدد سفارتی، سیاسی و سماجی شخصیات شریک ہوئیں عشائیے کا آغاز اٹلی اور پاکستان کے قومی ترانوں سے ہوا عشائیے سے خطاب میں پاکستان میں اطالوی سفیر ماریلینا آرمیلین نے کہا کہ اٹلی امریکہ ایران تنازع میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کی بھرپور حمایت کرتا ہے، پاکستان دوستی، کشادہ دلی اور احترام سے بھرپور ایک خوبصورت ملک ہے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ماریلینا آرمیلین کا کہنا تھا کہ آئندہ تین برس میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت اٹلی میں روزگار کے مواقع ملیں گے، سال 2025-2026 کے لئے 3200 پاکستانی طلباء کو اطالوی جامعات میں تعلیم کے لئے وظائف فراہم کئے، قونصلر رسائی اور دیگر سفارتی عوامل میں بہتری کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اطالوی سفیر نے کہا کہ یورپی یونین مین سب سے بڑی پاکستانی کمیونٹی اٹلی میں مقیم ہے، اپنی مدت ذمہ داری کے دوران پاک اٹلی تعلقات میں بہتری کے لئے بہت محنت کی ہے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
مہمان خصوصی وزیر مملکت علی پرویز ملک نے اعادہ کیا کہ پاکستان اور اٹلی مشترکہ اہداف رکھتے ہیں دونوں کے باہمی تعلقات نے 78 برس مکمل کر لئے ہیں، پاک یورپی تزویراتی مذاکرات کے بعد امید ہے کہ اطالوی کمپنیاں پاکستان آئیں گی۔تقریب کے اختتام پر مہمانوں نے مل کر کیک بھی کاٹا۔