گنے کی قیمت پر 10 شوگر ملوں کا گٹھ جوڑ پکڑا گیا، شوکاز نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) مسابقتی کمیشن نے شوگر ملوں کا کارٹل پکڑ لیا۔ مسابقتی کمیشن نے پنجاب کی 10 شوگر ملوں کو کارٹل بنانے پر شوکاز جاری کرتے ہوئے کہا کہ شوگر ملوں نے گنے کی کرشنگ میں تاخیر کا فیصلہ گٹھ جوڑ بنا کر کیا۔ شوگر ملوں نے کارٹل بنا کر گنے کی قیمت 400 روپے من فکس کی، گنے کی قیمت مقرر کرنے میں کسانوں کو نظر انداز کیا گیا۔ شوگر ملوں نے 10 نومبر کو ایک مل میں خفیہ میٹنگ کی، شوگر ملوں نے مشترکہ فیصلہ کیا کہ کرشنگ 28 نومبر سے شروع کی جائے گی۔ کارٹل بنا کر قیمتیں فکس کرنا مسابقتی ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔ مسابقتی کمیشن نے 10 شوگر ملوں کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 14 دن میں جواب طلب کر لیا۔ اعلامیے میں کہا گیاکہ کرشنگ میں تاخیر کی وجہ سے چینی کی مصنوعی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، جس شوگر مل میں خفیہ میٹنگ ہوئی اسے بھی شوکاز جاری کر دیا گیا۔
.ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: شوگر ملوں نے گنے کی
پڑھیں:
کمپٹیشن کمیشن کا مہنگی نوٹ بکس اور یونیفارمز کی فروخت پر نجی اسکولوں کو شوکاز
اسلام آباد:اسکول کے لوگو والی نوٹ بکس اور یونیفارم کی مشروط فروخت کے معاملے پر کمپٹیشن کمیشن نے 17 بڑے نجی اسکول سسٹمز کو شوکاز نوٹس جاری کردیے۔
کمپٹیشن کمیشن کے مطابق طلباء کو مہنگی لوگو والی نوٹ بکس اور یونیفارمز خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے، مشروط فروخت (Tying) کمپٹیشن ایکٹ کی خلاف ورزی ہے، شکایات پر کمیشن نے سو موٹو ایکشن لیا۔
سی سی پی کی انکوائری کے مطابق کئی نجی اسکولوں نے مخصوص وینڈرز سے خفیہ معاہدے کر رکھے ہیں، لوگو والی کاپیاں مارکیٹ سے 280 فیصد تک مہنگی پائی گئیں۔
ایڈمیشن کے بعد طلباء ’محصور کنزیومر‘ بن جاتے ہیں، ملک کے 50% طلباء نجی سکولوں میں زیرِ تعلیم ہیں جن پر گائیڈ لائنز کے نام پر مہنگی پراڈکٹس کی لازمی خریداری مسلط کی جاتی ہے اور والدین سستے متبادل بازار سے نہیں خرید سکتے۔
نوٹس ملنے والے اسکولوں میں بڑے نام شامل ہیں جو ملک بھر میں ہزاروں کیمپس چلاتے ہیں، لاکھوں طلباء اور والدین ان پالیسیوں سے متاثر ہوتے ہیں جبکہ ہزاروں اسٹیشنری و یونیفارم فروش چھوٹے کاروبار بھی بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔
نئے ایڈمیشن کے اخراجات اور سفری مشکلات کے باعث اسکول تبدیل نہیں کیا جا سکتا جس کے باعث والدین مجبوراً اسکول کے تمام تجارتی فیصلے ماننے پر مجبور ہوتے ہیں اور طلبہ ’یرغمال صارفین‘ بن جاتے ہیں۔
کپٹیشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اسکول انتظامیہ اپنی مارکیٹ پاور کا غلط استعمال کرتی ہے، نجی اسکولوں کو 14 دن میں تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، بصورت دیگر کمپٹیشن کمیشن ساڑھے سات کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کر سکتا ہے۔