اسلام آباد(این این آئی)پنجاب میں 90 سے زائد بھارتی خواتین نے پاکستانیوں سے شادی کے بعد پاکستانی شہریت کیلئے درخواستیں جمع کروادیں، جبکہ کئی نے اپنے ویزے کی مدت میں توسیع کی بھی درخواست دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اعلیٰ حکام نے بتایا کہ یہ خواتین قانونی طور پر اپنے پاکستانی شوہروں سے شادی شدہ ہیں اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں مقیم ہیں۔ انہوں نے پاکستانی حکام سے رابطہ کر کے اپنی قانونی حیثیت کیلئے درخواستیں دی ہیں، ان میں کچھ درخواستیں شہریت کے لیے اور کچھ ویزا کی مدت میں توسیع کے لیے ہیں۔حکام نے وضاحت کی کہ پاکستانی قانون کے مطابق کسی بھارتی خاتون کو جو پاکستانی شہری سے شادی شدہ ہو، پاکستان میں کم از کم پانچ سال رہائش مکمل کرنے کے بعد شہریت کے لیے درخواست دینے کا حق حاصل ہے، شادی کی رجسٹریشن ضروری ہے اور درخواست کے ساتھ فارم ایف، شادی کا سرٹیفکیٹ، شوہر کے قومی شناختی دستاویزات کی کاپیاں اور پاکستان میں رہائش کا قابل تصدیق ثبوت جمع کروانا لازمی ہے۔شہریت کی درخواستیں مختلف مراکز کے ذریعے جمع کروائی جاسکتی ہیں، جس میں اسلام آباد میں وزارت داخلہ کا ہیڈکوارٹر، صوبائی ہوم ڈیپارٹمنٹس اور لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں ریجنل پاسپورٹ دفاتر شامل ہیں۔پنجاب کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کے حکام نے تصدیق کی کہ صوبائی حکومت نے وفاقی ہدایات کے مطابق ان بھارتی خواتین کے ویزوں میں توسیع کی ہے، تاکہ وہ قانونی طور پر پاکستان میں مقیم رہ سکیں جبکہ ان کی شہریت کی درخواستیں وزارت داخلہ کے زیرِ جائزہ ہیں۔یہ بھارتی خواتین پاکستانی شہریوں سے شادی کے بعد اسپاؤسل ویزے پر پاکستان میں داخل ہوئی تھیں اور بیشتر نے ملک میں کئی سال مکمل کر لیے ہیں، ان کی درخواستیں مختلف مراحل میں زیر غور ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: بھارتی خواتین پاکستان میں نے پاکستانی شہریت کی

پڑھیں:

پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت

کابینہ کمیٹی برائے متعدی امراض، ڈینگی و ڈیزاسٹر منیجمنٹ کا اجلاس لاہور میں ہوا، پنجاب کے وزرائے صحت سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر نے اجلاس کی صدارت مشترکہ طور پر صدارت کی۔ 

اس موقع پر پنجاب کے وزرائے صحت نے کہا کہ ڈینگی کے افزائش والے اضلاع پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، صوبے بھر میں ڈینگی کی تازہ صورتحال پر قابو پانے کیلیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ 

صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر نے متعلقہ افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت کی۔ انھوں نے کہا ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ جون جولائی میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں۔ 

خواجہ عمران نذیر نے کہا ڈینگی وائرس پر قابو پانے کے اقدامات کسی ایک محکمہ کی ذمہ داری نہیں، اقدامات کی ذمہ داری تمام اسٹیک ہولڈرز کی ہے۔ 

خواجہ عمران نے سی ای او ہیلتھ کو ضلعی انتظامیہ کیساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی۔ 

انھوں نے کہا کہ ایچ آر منیجمنٹ، والنٹیر ماڈل کو اپناتے ہوئے ڈینگی کا خاتمہ ممکن ہے، یونیورسٹی اور کالجز کے طلبہ  کو انسداد ڈینگی کی کارروائیوں میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ 

خواجہ سلمان رفیق نے کہا ڈینگی کی بوگس سرویلنس ناقابل برداشت ہے، عوام اپنےگھروں، دکانوں اور دیگر مقامات پر صفائی کویقینی بنائیں

متعلقہ مضامین

  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت