جسٹس طارق محمود جہانگیری کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے ہائرایجوکیشن سے ڈگری ریکارڈ طلب کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی وکالت کی ڈگری کا ریکارڈ ہائرایجوکیشن کمیشن کے ذریعے کراچی یونیورسٹی سے طلب کرلیا۔
ہائیکورٹ نے جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف کیس 9 دسمبر کو دوبارہ سماعت کیلئے مقرر کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری منسوخ، جامعہ کراچی نے نوٹیفکیشن جاری کردیا
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ڈگری کا ریکارڈ طلب کرنے کا تحریری آرڈر جاری کیا۔
https://Twitter.
تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ میرٹ پر جائے بغیر جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری کا ریکارڈ طلب کر رہے ہیں، ہائر ایجوکیشن کمیشن کی مجاز اتھارٹی ڈگری کا ریکارڈ حاصل کر کے عدالت میں پیش کرے۔
مزید پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری منسوخی کا فیصلہ معطل کردیا
حکمنامے میں کہا گیا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن وکالت کی ڈگری کی تصدیق کے ساتھ ریکارڈ پیش کرے۔
حکم نامے کے مطابق عدالت نے کراچی یونیورسٹی کے حقائق کا علم رکھنے والا مجاز افسر کو بھی اسلام آباد ہائیکورٹ طلب کر لیا ہے۔
مزید پڑھیں: کیسے طے کرلیا گیا کہ جسٹس طارق محمود کی ڈگری جعلی ہے؟ ڈاکٹر ریاض نے سوالات اٹھا دیے
ڈگری کے ریکارڈ اور درخواست قابلِ سماعت ہونے کا جائزہ لینے کے بعد کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ عدالتی معاون درخواست قابلِ سماعت ہونے کے نکتے پر آئندہ سماعت پر معاونت کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس طارق محمود جہانگیری چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کراچی یونیورسٹی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائیکورٹ جسٹس طارق محمود جہانگیری چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کراچی یونیورسٹی جسٹس طارق محمود جہانگیری کی اسلام ا باد ہائیکورٹ ڈگری کا ریکارڈ ہائیکورٹ نے کی ڈگری
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔