پنجاب میں غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کیخلاف کارروائیاں تیز، 31ہزار سے زائد افراد ڈی پورٹ
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
پنجاب بھر میں غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق اب تک لاہور سمیت صوبے کے مختلف اضلاع سے 31ہزار سے زائد افغانیوں سمیت غیر قانونی مقیم غیر ملکی افراد کو ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے۔ترجمان کے مطابق اس وقت 165 غیر قانونی مقیم افراد مختلف ہولڈنگ پوائنٹس پر موجود ہیں، ڈی پورٹ کیے گئے افراد میں 11ہزار 362مرد، 6ہزار 426خواتین جبکہ 19ہزار 366بچے شامل ہیں۔پنجاب پولیس کے مطابق ڈی پورٹ ہونے والوں میں 9ہزار 931افراد ایسے تھے جو کسی نہ کسی نوعیت کا رہائشی ثبوت رکھتے تھے، 11ہزار 64افراد افغان سٹیزن کارڈ کے حامل تھے جبکہ 10ہزار 16افراد مکمل طور پر غیر قانونی طور پر مقیم تھے۔علاوہ ازیں غیر قانونی رہائش کے خلاف کارروائیوں کے سلسلے میں لاہور میں 5 جبکہ صوبہ بھر میں مجموعی طور پر 46ہولڈنگ سینٹرز قائم کیے گئے ہیں جہاں دستاویزی عمل اور اسکریننگ کے بعد افراد کو واپس بھیجا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ڈی پورٹ
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔