پنجاب کو ناجائز اسلحے سے پاک کرنے کا منصوبہ، ڈرافٹ تیار کرلیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
مجوزہ قانون کے مطابق حکومت 15 روز کی عمومی مہلت دے گی، جس دوران شہری بلاخوف اپنا غیر قانونی اسلحہ تھانے یا سی سی ڈی کے پاس جمع کرا سکیں گے اور اس مدت میں اسلحہ جمع کرانے والوں کیخلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوگی۔ جمع شدہ ہتھیاروں کی باقاعدہ رسید جاری کی جائے گی اور ہر اسلحے کا ڈیجیٹل ریکارڈ رکھا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ پنجاب حکومت نے صوبے کو اسلحہ سے پاک کرنے کا منصوبہ بنا لیا۔ پنجاب سرینڈر آف الیسٹ آرمز ایکٹ 2025 کا ڈرافٹ تیار کر لیا گیا ہے۔ جس کے تحت ناجائز اسلحہ رکھنے والوں کیلئے سخت سزاؤں اور بھاری جرمانوں کی تجویز شامل کی گئی ہے۔ مجوزہ قانون کے مطابق حکومت 15 روز کی عمومی مہلت دے گی، جس دوران شہری بلاخوف اپنا غیر قانونی اسلحہ تھانے یا سی سی ڈی کے پاس جمع کرا سکیں گے اور اس مدت میں اسلحہ جمع کرانے والوں کیخلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوگی۔
جمع شدہ ہتھیاروں کی باقاعدہ رسید جاری کی جائے گی اور ہر اسلحے کا ڈیجیٹل ریکارڈ رکھا جائے گا۔ قانون میں یہ بھی شامل ہے کہ مہلت ختم ہونے کے بعد غیر قانونی اسلحہ نہ جمع کرانے والوں کیخلاف سخت کارروائی ہوگی، جبکہ لائسنس یافتہ اسلحہ رکھنے والوں کی بھی مکمل جانچ پڑتال کی جائے گی۔ ٹیکس نادہندگان، سنگین مقدمات میں ملوث افراد اور ہتھیار رکھنے کا جواز ثابت نہ کرنیوالوں کے لائسنس منسوخ کیے جا سکیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: والوں کی
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔