53 کروڑ روپے فراڈ کیس؛ نادیہ حسین کے شوہر کو بڑا ریلیف مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
معروف ماڈل اور اداکارہ نادیہ حسین کے شوہر عاطف خان کے 53 کروڑ روپے بینک فراڈ کیس میں بڑی پیشرفت سامنے آگئی۔
سندھ ہائیکورٹ میں ہونے والی سماعت میں عاطف خان کی 10 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرلی۔
سماعت کے دوران عاطف خان کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے مؤکل کا کیس میں براہِ راست کردار ثابت نہیں ہوتا۔
علاوہ ازیں اس کیس میں ملوث دیگر افراد کی عبوری ضمانتیں بھی برقرار رکھی گئی ہیں۔
نادیہ حسین کے شوہر کو مارچ کے مہینے میں ایف آئی اے نے ایک نجی بینک میں کروڑوں روپے کی مبینہ خرد برد اور مشکوک ٹرانزیکشنز کا معاملہ سامنے آنے پر حراست میں لیا تھا۔
نادیہ حسین کے شوہر پر بینک کے 80 کروڑ روپے کا غلط استعمال کرکے ذاتی کاروبار کے لیے 65 کروڑ 40 لاکھ روپے کے فنڈز تیسری پارٹی سے وصول کرنے کا الزام تھا۔۔
معاملہ اس وقت مزید دلچسپ ہوگیا جب مبینہ طور پر کچھ رقم نادیہ حسین کے اکاؤنٹ میں بھی ٹرانسفر ہونے کا الزام سامنے آیا تھا جس پر اداکارہ کو بھی ایف آئی اے نے طلب کیا۔
نادیہ حسین نے موقف اختیار کیا تھا کہ سب جانتے ہیں کہ شوہر کے کیس میں میرا کوئی عمل دخل نہیں۔ جو رقم آئی تھی، اس کی وجہ بھی میں نے ایف آئی اے کو مکمل وضاحت کے ساتھ بتا دی تھی۔
اس کیس میں ایک موقع یہ بھی آیا تھا جب نادیہ حسین نے ایف آئی اہلکار پر رشوت کا تقاضا کرنے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔
ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ رشوت طلب کرنے والے نے محض ڈی پی اے ایف آئی کی لگائی ہے۔ اس کا ادارے سے کوئی تعلق نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نادیہ حسین کے شوہر کیس میں
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔