وفاقی وزرا کی پریس کانفرنس حالات خراب کرنے کے مترادف ہے،سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251206-1-4
پشاور (مانیٹرنگ ڈ یسک ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاقی وزرا کی پریس کانفرنس غیرقانونی اور جان بوجھ کر حالات خراب کرنے کے مترادف ہے، عمران خان پورے پاکستان کے لیڈر ہیں اور ان کی اہلیہ ایک غیرسیاسی اور باپردہ خاتون ہیں۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے41 ویں صوبائی کابینہ اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے مستقبل کی پالیسی گائیڈ لائنز جاری کر دیں۔انہوں نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ہمارے لیڈر عمران خان اور ان کی اہلیہ کو قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے جس کی صوبائی حکومت بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ وفاقی وزرا کی پریس کانفرنس غیر انسانی ، غیراخلاقی اور غیر قانونی تھی، وفاقی وزراء کا یہ رویہ عوام کو اشتعال دلانے اور جان بوجھ کر حالات خراب کرنے کے مترادف ہے، وفاقی حکومت کی جانب سے ایسی پریس کانفرنسز کی بھی صوبائی حکومت مذمت کرتی ہے، عمران خان پورے پاکستان کے لیڈر ہیں اور انکی اہلیہ ایک غیر سیاسی اور باپردہ خاتون ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت پہلے ہی گڈ گورننس روڈ میپ دے چکی ہے، سرکاری اجلاسوں میں شرکت کے لیے سول افسران جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کریں، سرکاری اجلاسوں میں آن لائن شرکت کی جائے، اس سے سرکاری اخراجات میں کمی ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔