موت کے سوداگر اب منشیات اسمگلنگ کیلئے بچوں کو استعمال کرنے لگے
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
منشیات اسمگلنگ کے گھناؤنے ملزمان اب اسمگلنگ میں کم عمر بچوں کا استعمال کرنے لگے۔
تفصیلات کے مطابق مردان میں موت کے سوداگر اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے چھوٹے بچوں کو استعمال کررہے ہیں۔
سیکورٹی حکام نے دو کم عمر لڑکوں کے ذریعے آئس کی راولپنڈی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنادی ہے۔ 2000 گرام آئس لڑکوں کے پیروں سے باندھی گئی تھی جسے برآمد کرلیا گیا۔
سعود خان گنڈا پور پراوینشل انچارج بیورو آف اینٹیلیجنس اینڈ انویسٹیگیشن کے زیر نگرانی فخر عالم خان انسپکٹر اور شیر شاہ سوری سب انسپکٹر نے خفیہ اطلاع پر مردان نوشہرہ روڈ پر کارروائی کرتے ہوئے دو کم عمر لڑکوں کے ذریعے آئس راولپنڈی سمگلنگ کی کوشش ناکام بنائی۔
دوران تلاشی لڑکوں کے پیروں کے ساتھ باندھی گئی 2000 گرام آئس برآمد کی گئی۔ برآمدگی کے بعد مزید تفتیش جاری ہے جبکہ سہولت کاروں اور ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے تھانہ ایکسائز مردان میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ملزمان کے پورے نیٹ ورک تک پہنچنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لڑکوں کے
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔