data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بھارتی کرکٹ ٹیم پر میچ فیس کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔

یہ کارروائی 3 دسمبر کو رائے پور میں جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلے گئے سیریز کے دوسرے ون ڈے میچ کے دوران ٹیم کی سلو اوور ریٹ کی خلاف ورزی کے سبب کی گئی۔

آئی سی سی کے مطابق بھارتی ٹیم مقررہ وقت میں اپنے دو اوورز مکمل نہیں کر سکی، جس کے نتیجے میں ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 2.

22 کے تحت ہر اوور پر کھلاڑیوں کی میچ فیس کا 5 فیصد جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ چنانچہ اس واقعے کے سبب ٹیم پر مجموعی طور پر میچ فیس کا 10 فیصد جرمانہ لگا۔

بھارتی کپتان کے ایل راہول نے اس خلاف ورزی کا اعتراف کیا اور جرمانے کو قبول کر لیا۔ آئی سی سی کی یہ کارروائی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی کہ ٹیمیں مقررہ وقت کے اندر میچ کے اوورز مکمل کریں اور کھیل کے معیار کو برقرار رکھا جائے۔

واضح رہے کہ اس میچ میں جنوبی افریقہ نے بھارت کا 359 رنز کا بڑا ہدف حاصل کر کے 4 وکٹوں سے فتح حاصل کی تھی، جس نے میچ کے نتائج اور بھارتی ٹیم کی کارکردگی دونوں پر اثر ڈالا۔ اس واقعے نے نہ صرف بھارتی ٹیم کی ڈسپلن میں چھوٹ کی عکاسی کی بلکہ کرکٹ کے عالمی قوانین کے نفاذ کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بھارتی ٹیم

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل