سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے لیے جسٹس ظفر راجپوت کے نام کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت چیف جسٹس پاکستان اور کمیشن کے چیئرمین جسٹس یحییٰ آفریدی نے کی۔
اجلاس میں سندھ ہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس کی تقرری سے متعلق مشاورت کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:
ذرائع کے مطابق سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے کے لیے 3 سینیئر ججز کے ناموں پر غور کیا گیا۔
مشاورت کے بعد کمیشن نے سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے لیے جسٹس ظفر راجپوت کے نام کی منظوری دیدی۔
مزید پڑھیں:
آئین کے تحت اعلیٰ عدلیہ میں تقرریاں جوڈیشل کمیشن کی سفارش اور پارلیمانی کمیٹی کی توثیق سے مشروط ہوتی ہیں۔
سندھ ہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس کی نامزدگی کے ضمن میں کمیشن کی سفارش صدرِ مملکت کو بھیجی جائے گی، جس کے بعد تقرری کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پارلیمانی کمیٹی جسٹس ظفر راجپوت جسٹس یحییٰ آفریدی جوڈیشل کمیشن چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ صدر مملکت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پارلیمانی کمیٹی جسٹس ظفر راجپوت جسٹس یحیی آفریدی جوڈیشل کمیشن چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ صدر مملکت سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے لیے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔