زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں ڈالر کی نسبت روپیہ تگڑا
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
کراچی:(نیوزڈیسک) مختلف عوامل کے باعث پیر کو زر مبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں ڈالر کی نسبت روپیہ تگڑا رہا۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے پاکستان کے تین اہم منصوبوں کے لیے 6کروڑ 18لاکھ ڈالر کی فنانسنگ کے معاہدے، چین کی پاکستان کی ای وی مارکیٹ میں سرمایہ کاری پلان اور سمندر پار مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر کی آمد بڑھنے سے زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں پیر کو 54ویں دن بھی ڈالر کی نسبت روپیہ تگڑا رہا۔
آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ سے پاکستان کے لیے قرض کی اگلی قسط منظور ہونے کی توقعات، رواں سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے 1فیصد رہنے اور عالمی ٹریژری ادارے ٹریس مارک کی ڈالر کی قدر 280روپے سے نیچے آنے کی پیشگوئی جیسے عوامل کے باعث انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے تمام دورانیے میں ڈالر تنزلی سے دوچار رہا۔
ایک موقع پر ڈالر کی قدر 42پیسے کی بڑی کمی سے 280روپے کی سطح پر بھی آگئی تھی لیکن سپلائی میں بہتری آتے ہی درآمدی نوعیت کی طلب بڑھنے سے کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر صرف ایک پیسے کی کمی سے 280روپے 41پیسے پر بند ہوئی جبکہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر ایک پیسے کی کمی سے 281روپے 45پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈالر کی قدر
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
عالمی منڈی میں جمعہ کو خام تیل (Crude Oil)کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم مجموعی طور پر ہفتہ وار بنیادوں پر تیل کی قیمتیں نمایاں اضافے کی جانب بڑھتی رہیں۔ بحیرۂ احمر میں آئل ٹینکروں پر حملوں اور قازقستان سے تیل کی برآمدات میں رکاوٹ نے عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
کاروباری سیشن کے دوران برینٹ خام تیل (Brent Crude) کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کرتے ہوئے 100.12 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس سطح پر پہنچی ہے۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 92 ڈالر فی بیرل جبکہ اماراتی مربن آئل (Murban Crude) 107.30 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہوا۔
مارکیٹ میں تیزی کی ایک بڑی وجہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحیرۂ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان حملوں کے بعد سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اگر باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ راستہ آبنائے ہرمز کے بعد دنیا میں خام تیل کی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں ایسے کسی بھی حملے کی ذمہ داری ایران پر عائد کی جائے گی۔ دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کر رکھا ہے، جبکہ مختلف اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں باب المندب کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔
مزیدپڑھیں:پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
ادھر قازقستان (Kazakhstan) کی وزارتِ توانائی نے بتایا کہ مشتبہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد ملک کی ایک اہم برآمدی تنصیب عارضی طور پر بند ہونے سے خام تیل کی پیداوار کم کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق کیسپین پائپ لائن کنسورشیم (Caspian Pipeline Consortium – CPC) نے ٹرمینل پر حملوں کے باعث قازقستان سے خام تیل کی وصولی عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ یہ پائپ لائن عالمی سطح پر یومیہ خام تیل کی تقریباً دو فیصد سپلائی سنبھالتی ہے، جبکہ ایک ذریعے کے مطابق قازقستان کے سب سے بڑے آئل فیلڈ کی پیداوار بھی نصف سے کم کر دی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور قازقستان سے سپلائی میں رکاوٹ کے باعث عالمی تیل مارکیٹ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں پر اضافے کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔