پی ٹی آئی پنجاب کی پارلیمانی پارٹی عمران خان کے ٹوئٹس پر خاموش کیوں؟
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
عمران خان کے ٹوئٹس اور اس پر فوج کے ترجمان کے ردعمل پر پاکستان تحریک انصاف کی پنجاب میں پارلیمانی پارٹی نے چپ سادھی ہوئی ہے اور خاموشی کی ایک انوکھی تصویر بنی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلے ٹوئٹر پر سخت پوسٹ کرنا چھوڑو، پھر ملاقات، عمران خان کی صحت سے متعلق فیک نیوز، سہیل آفریدی بھی ناکام
چند روز قبل جیل میں قید بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے ایکس پر کی جانے والی پوسٹ میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو براہ راست تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے فوراً بعد ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے ایک تفصیلی پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے عمران خان کو ذہنی مریض قرار دیا اور یہ کہا کہ وہ پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے اس سخت مؤقف نے سیاسی حلقوں میں شدید ہلچل مچادی اور پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت نے فوری ردعمل دیا۔
پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے سلمان اکرم راجہ اور اسد قیصر کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے الفاظ غیر مناسب اور جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہیں۔
مزید پڑھیے: ڈی جی آئی ایس پی آر کے عمران خان کے لیے سخت الفاظ، کیا پی ٹی آئی پر پابندی لگنے جا رہی ہے؟
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ایک سینئر فوجی افسر کا ایک بڑی سیاسی جماعت، اس کی قیادت اور خیبر پختونخوا کے وزیرِاعلیٰ کے خلاف ایسا لہجہ انتہائی افسوسناک ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے واضح طور پر کہا کہ ملک کا سب سے مقبول لیڈر قومی سلامتی کا خطرہ کیسے ہوسکتا ہے؟ یہ الزامات مضحکہ خیز ہیں۔ انہوں نے اداروں کے درمیان تناؤ کم کرنے، اختلافات دور کرنے اور عمران خان کی بہنوں سے ملاقات کی اجازت دینے پر بھی زور دیا۔
پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کی خاموشیوی نیوز نے اس معاملے پر پی ٹی آئی کی پنجاب پارلیمانی پارٹی کے متعدد اراکینِ اسمبلی سے رابطہ کیا مگر وہاں خاموشی ہی خاموشی نظر آئی۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کچھ ایم پی ایز نے بتایا کہ وہ اس معاملے پر کچھ نہیں کہنا چاہتے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ عمران خان کے ٹوئٹس اور ان کے مؤقف کے ساتھ کھڑے ہیں جنہیں ڈی جی آئی ایس پی آر نے قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے تو انہوں نے واضح جواب دینے سے گریز کیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان سے بڑھ کر کچھ نہیں، ایک شخص اپنی ذات کا قیدی، اس کی شعبدہ بازی اور سیاست ختم ہوگئی، ڈی جی آئی ایس پی آر
ایک ایم پی اے نے مختصراً کہا کہ ہم کسی کی طرف نہیں ہیں بس خاموش رہنا ہی بہتر سمجھتے ہیں۔
شیخ امتیاز کا واضح مؤقفدوسری طرف پی ٹی آئی کے ایم پی اے اور سابق صدر لاہور شیخ امتیاز نے اس معاملے پر بالکل کھل کر بات کی۔ وی نیوز سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ہم عمران خان کے مؤقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور جو انہوں نے ٹوئٹس میں کہا ہے ہم اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو ایسی پریس کانفرنس نہیں کرنی چاہیے تھی اور اداروں کو اس کارروائی کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: مائنس ون نہیں تو پوری پی ٹی آئی ختم، فیصل واوڈا نے سخت پیغام دے دیا
شیخ امتیاز نے مزید کہا کہ یہ جمہوریت پر حملہ ہے اور پی ٹی آئی پنجاب اسے برداشت نہیں کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی پی ٹی آئی پنجاب عمران خان ٹوئٹ فوج کا عمران خان پر تبصرہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی پی ٹی ا ئی پنجاب عمران خان ٹوئٹ فوج کا عمران خان پر تبصرہ ڈی جی آئی ایس پی آر پارلیمانی پارٹی عمران خان کے پی ٹی ا ئی پی ٹی آئی انہوں نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
تصویر سوشل میڈیا۔پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔
لاہور ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث نناوے فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں میں کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے۔ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، بارشوں کے باعث 38 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ شہریوں سے گزارش ہے موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔