عمران خان ٹھیک بندہ نہیں تھا تو وزیراعظم کیوں بنایا؟ محمود اچکزئی کا پشاور جلسے میں سوال
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود اچکزئی نے کہا ہے کہ آج حق و باطل کی جنگ فائنل مرحلے میں پہنچ چکی ہے، سیاست عقل و شعور کا کام ہے۔ عمران خان ٹھیک بندہ نہیں تھا تو وزیراعظم کیوں بنایا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا پشاور میں جلسہ جاری، اسد قیصر نے افغان بارڈر کھولنے کا مطالبہ کردیا
پشاور میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جمہوری قوت بانی پی ٹی آئی عمران خان ہی ہے، اور مخالفین کے اوسان خطا ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ یہ لوگ آئین کو نہیں مانتے، کہتے ہیں کہ ہم نے ہندوستان اور افغانستان کے ساتھ جنگ کرنی ہے۔
انہوں نے سوال کرتے ہوئے کہاکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان ٹھیک بندہ نہیں تھا تو کیوں وزیراعظم بنایا، آج وہ تمہارے جبر کے سامنے کھڑا ہوا تو زبردستی اس کو پیچھے کررہے ہو۔
محمود اچکزئی نے تنقید کرتے ہوئے کہاکہ آپ نے میرے مائنز پر قبضہ کیا ہوا ہے، آج روزگار نہ ہونے کی وجہ سے 80 لاکھ پاکستانی بیرون ملک مزدوری کررہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہم پاکستان کو ایسے ملک بنانا چاہتے جہاں قانون کی بالادستی ہو، جہاں عوام طاقت کا سرچشمہ ہو۔
مزید پڑھیں: پشاور جلسہ: اسد قیصر کے خطاب کے دوران کارکنان کے ’ڈی چوک ڈی چوک‘ کے نعرے
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے پشاور میں جلسہ عام منعقد کیا جس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت اپوزیشن رہنماؤں نے شرکت کی اور حکومت کے خلاف تقاریر کیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پی ٹی آئی تحریک تحفظ آئین سہیل آفریدی سیاست عمران خان عمران خان رہائی محمود اچکزئی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی تحریک تحفظ ا ئین سہیل ا فریدی سیاست عمران خان رہائی محمود اچکزئی وی نیوز محمود اچکزئی انہوں نے
پڑھیں:
کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔
گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟
کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔
نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔
صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔
گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔