لندن، پی ایس ایل روڈ شو، بڑے اعلانات
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2026ء کے سلسلے میں لارڈز کے تاریخی کرکٹ گراؤنڈ میں روڈ شو ہوا ہے۔
روڈ شو میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) چیئرمین محسن نقوی ، لیجنڈ کرکٹر وسیم اکرم ، رمیز راجا اور اسٹار بیٹر بابراعظم نے بھی شرکت کی ۔
ذرائع کے مطابق اس دوران پی ایس ایل کی 2 ممکنہ نئی ٹیموں کی شمولیت اور اُن کے خریدنے کی تفصیلات بیان کی گئیں۔
ذرائع کے مطابق شرکاء کو بتایا گیا کہ پی ایس ایل کو پاکستان اسٹاک ایکس چینج ( پی ایس ایکس) میں لانچ کیا جائے گا ،جہاں سے نئی سرمایہ کاری آئے گی۔
ذرائع کے مطابق روڈ شو میں متعدد افراد نے ٹیمیں خریدنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے ۔
ذرائع کے مطابق اس موقع پر شرکاء کو بتایا گیا کہ پی ایس ایل میچز کروانے کے لیے مظفر آباد اسٹیڈیم بھی لینے جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ذرائع کے مطابق پی ایس ایل روڈ شو
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔