آئی ایم ایف بورڈ کا آج اجلاس؛ پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی منظوری متوقع
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس آج منعقد ہوگا، جس میں آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان اسٹاف لیول معاہدے کی منظوری متوقع ہے۔
اجلاس میں ’ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی‘ یعنی ای ایف ایف کے تحت پاکستان کے 37 ماہ کے توسیعی معاہدے کے دوسرے جائزے اور ’ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی‘ یعنی آر ایس ایف کے تحت 28 ماہ کے معاہدے کے پہلے جائزے پر غور کیا جائے گا۔
The IMF Executive Board meets on Dec 8 to consider Pakistan’s request for a $1.
— Adeel Afzal (@AdeelAfzal06) December 7, 2025
منظوری کی صورت میں پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً 1.0 ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت تقریباً 200 ملین ڈالر تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔
اس طرح دونوں سہولتوں کے تحت مجموعی ادائیگیاں بڑھ کر تقریباً 3.3 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ طے ہو چکا، وزیرخزانہ
آئی ایم ایف کی ویب سائٹ کے مطابق بورڈ کا اجلاس آج 8 دسمبر کو شیڈول ہے۔
واضح رہے کہ ایوا پیٹرووا کی سربراہی میں آئی ایم ایف کے مشن نے رواں برس 24 ستمبر سے 8 اکتوبر تک کراچی، اسلام آباد اور واشنگٹن ڈی سی میں ای ایف ایف کے دوسرے جائزے اور آر ایس ایف کے پہلے جائزے کے سلسلے میں پاکستانی حکام کے ساتھ مذاکرات کیے۔
مزید پڑھیں: عدلیہ کرپٹ ترین ادارہ، آئی ایم ایف کی حکومت کے خلاف چارج شیٹ، رپورٹ 3 ماہ تک کیوں چھپائی گئی؟
15 اکتوبر کو آئی ایم ایف نے بتایا کہ پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کے اسٹاف کے درمیان ای ایف ایف کے دوسرے جائزے اور آر ایس ایف کے پہلے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے، جو ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ایم ایف اجلاس اسٹاف لیول معاہدہ ایگزیکٹو بورڈ ایوا پیٹرووا پاکستان توسیعی معاہدے کراچی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف اجلاس اسٹاف لیول معاہدہ ایگزیکٹو بورڈ پاکستان توسیعی معاہدے کراچی ایف ایف کے آر ایس ایف کے ا ئی ایم ایف آئی ایم ایف اسٹاف لیول ایف کے تحت
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔