15 سال بعد ’تھری ایڈیٹس‘ کا سیکوئل آنے کو تیار؛ وہی کاسٹ، کہانی مزید دلچسپ
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
تھری ایڈیٹس جیسی شاہکار فلم دینے والے راج کمار ہیرانی نے مداحوں کو 15 سال بعد ایک ایسی خوشخبری سنادی جس کا سب بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔
بالی وُوڈ کی شاہکار فلموں میں سے ایک تھری ایڈیٹس کا سیکویل آخرکار جلد ہی شروع ہونے جا رہا ہے۔
جس میں پرانی کاسٹ عامر خان، کرینہ کپور، آر۔ مادھون اور شرمان جوشی ایک بار پھر اپنے یادگار کرداروں رانچھو، فرحان، راجو اور پیا کے طور پر اسکرین پر واپس آئیں گے۔
بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ فلم کے سیکوئل کا اسکرپٹ فائنل کر لیا گیا ہے اور پوری ٹیم اس بات پر پُرجوش ہے کہ فلم کا مزاح، جذبات اور پیغام ایک بار پھر اُسی شدت کے ساتھ لوٹ رہا ہے۔
سیکوئل کی کہانی وہیں سے آگے بڑھے گی جہاں 2009 پر اختتام پذیر ہوئی تھی۔ تقریباً 15 سال بعد چاروں کردار ایک نئی مہم کے لیے دوبارہ ملیں گے۔
فلم میں رانچھو، فرحان، راجو اور پیا کی ’’بزرگی‘‘ کی زندگی دکھائی جائے گی اور مزاح بھی اسی تبدیلی کے مطابق نیا رنگ لے گا۔
کہانی میں دوستی، ذاتی جدوجہد، زندگی کے بدلتے نظریات اور نئی پیچیدگیاں شامل ہوں گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ راج کمار ہیرانی کئی سال سے سیکویل کے بارے میں سوچ رہے تھے مگر انھیں مناسب وقت اور بہترین اسکرپٹ کا انتظار تھا۔
ان کی دادا صاحب پھالکے پر بننے والی بایوپک مؤخر ہونے کے بعد وہ مکمل طور پر سیکویل پر توجہ دے رہے ہیں۔
سنہ 2009 میں ریلیز ہونے والی تھری ایڈیٹس نہ صرف سپرہٹ تھی بلکہ ایک کلٹ کلاسک بن گئی جس نے بھارت کے سخت تعلیمی نظام، گریڈ کے لیے اور کامیابی کے معیار پر بڑی بحث چھیڑی تھی۔
اس فلم کے ڈائیلاگ اور مناظر آج بھی مقبول ہیں جب کہ ایک ڈئیلاگ آل از ویل تو لوگوں کا تکیہ کلام بن چکا ہے۔
فلم کی مکمل مرکزی کاسٹ کی واپسی کے ساتھ، فلم انڈسٹری اور شائقین دونوں ہی اسے اگلے چند سالوں کی سب سے زیادہ انتظار کی جانے والی فلم قرار دے رہے ہیں۔
تاحال عامر خان پروڈکشن یا ہدایتکار راج کمار ہیرانی کی جانب سے فلم سیکوئل سے متعلق آفیشل بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل تھری ایڈیٹس
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔