پولیس حیدرآباد میں شراب خانے چلا رہی ہے، ریحان راجپوت
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی ریحان راجپوت نے کہا ہے کہ حیدرآباد میں جس تیزی سے شراب خانے کو کھولنے کی اجازت دی جارہی ہے اس کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ عرصے کے بعد پورے شہر میں شراب خانوں کی بھرمار
ہوجائے گی۔ پہلے ہی حیدرآباد سٹی، لطیف آباد، قاسم آباد اور تعلقہ دیہی میں بڑی تعداد میں شراب خانے اور کچی شراب کی بھٹیاں قائم ہیں اس کے علاوہ ہر گلی اور محلے میں خود پولیس کی سرپرستی میں شراب کا کاروبار جاری ہے جس سے براہ راست نوجوان متاثر ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حیدرآباد میں قائم شراب خانے کیلئے یہ جواز پیش کیا جاتا ہے کہ یہ غیر مسلم کیلےے قائم ہے لیکن ان شراب خانوں سے غیر مسلموں سے زیادہ مسلمان اور خاص طورپر نوجوان شراب خریدتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اسلامی ملک میں اور خاص طورپر حیدرآباد میں جس طرح شراب خانے کھولنے کی اجازت دے رہی ہے وہ خود حکومت کیلےے شرم کا مقام ہے۔ حیدرآباد کے آٹو بھان روڈ پر ایکسائز پولیس، انتظامیہ اور ضلعی پولیس کی سرپرستی میں شراب خانہ کھولا جارہا ہے، شہر کی سیاسی، مذہبی اور فلاحی تنظیمیں اور خود علاقے کے لوگ اس شراب خانے کیخلاف سراپا احتجاج ہیں اس کے خلاف درخواستیں بھی دی گئیں لیکن کوئی سنوائی نہیں کی جارہی ہے۔ انہوںنے وزیراعلیٰ سندھ سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ آٹو بھان روڈ پر شراب خانے پرپابندی لگائی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔