وائن شاپ کھولنے کیخلاف آٹوبھان روڈ لطیف آباد میں احتجاجی مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251209-1-6
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)آٹو بھان روڈ پر وائن شاپ کھولے جانے کے خلاف آٹوبھان روڈ لطیف آباد میں ایک عوامی احتجا جی مظاہرہ کیا گیا جس میں مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر عمرفاروق خانزادہ، صنعت وتجارت کے ذمہ دار ارسلان عیسانی، جماعت اسلامی کے صوبائی رہنما حافظ طاہر مجید، ضلعی رہنما حافظ سفیان، ٹریفک روڈ سیفٹی مینجمنٹ ضلع حیدرآباد کے جاوید اقبال، آل لطیف آباد بزنس فورم حماد درانی، سول سوسائٹی، طلبا ،اساتذہ کے رہنما سید عبداللہ گیلانی، طلبا یونین کے ذمہ دار حمارضا ،یوتھ لیگ کے رہنما عبدالہادی اور دیگرسیاسی سماجی رہنماں اور شہریوں سمیت آٹوبھان روڈ پر واقع مختلف اکیڈمیز اسکولوں کے معصوم طلبا نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع مختلف تعلیمی اداروں کے بچوں نے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر ’’ہمیں شراب خانے نہیں تعلیم کی ضرورت ہے‘‘ تعلیم کے اداروں کے قریب شراب خانے کا کھلنا افسوس ناک قدم ہے ‘‘سندھ حکومت شہریوں کی صورتحال بدلنے کے بجائے شراب خانوں کے قیام میں مصروف عمل ہے‘‘ حیدرآباد کو سیف سیٹی بنانے کے بجائے نشہ خانہ بنایا جارہا ہے‘‘پر مبنی تحریریں درج تھیں۔اس موقع پر سول سوسائٹی، مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں سمیت اساتذہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا سندھ حکومت اپنے ایم این اے اور ایم پی اے کو ترقیاتی بجٹ دینے کے بجائے اپنے ممبران کو شراب خانوں کی پرمٹ دیکر سندھ کو اور سندھ کے شہریوں کو نشہ کا عادی بنانے پہ تلی ہوئی ہے، اس وقت حیدرآباد کا شہر کھنڈرات میں تبدیل ہو چکاہے لیکن حکومت شہرمیں تعمیر وترقیاتی منصوبا جات کے بجائے شراب خانوں کو عام کررہی ہے، مہذب معاشرہ کسی طور بھی یہ برداشت نہیں کریگا ۔رہنمائوں نے سندھ حکومت کی جانب سے نئے شراب خانوں کی پرمٹس جاری کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اسلامی، سماجی اور اخلاقی اقدار کے منافی ہے، صوبے میں شراب خانوں کا بڑھتا جال حکومت کی ناکام پالیسیوں اور غیر سنجیدگی کا عکاس ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ آٹو بھان تعلیمی تربیتی مرکز ہے اور یہ علاقہ حیدرآباد کا بزنس حب ہے، اس علاقے میں ہماری فیملیاں بچے خریداری کیلیے آتے ہیں، اس کے علاوہ یہاں سیکڑوں اسکول اکیڈمیز ہیں جہاں بچے بڑے سب یہاں سے تعلیم حاصل کرتے ہیں مگر یہاں شراب خانے کا قیام کرنا ہمارے مستقبل کے لیے سوالیہ نشان ہے۔ آخر میں مقررین نے قرارداد پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فوری طور پرلطیف آباد آٹوبھان روڈ پر شراب خانے کا اجازت نامہ منسوخ کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے بجائے
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ