data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251211-11-8
سکھر (نمائندہ جسارت) سکھر میونسپل کارپوریشن کی مبینہ نااہلی گھنٹہ گھر اور مرکزی کاروباری علاقوں میں غیر قانونی پارکنگ ایریاز دوبارہ قائم ،سکھر شہر کے تاریخی اور مصروف ترین تجارتی علاقے گھنٹہ گھر سمیت مرکزی شاہراہیں ایک بار پھر غیر قانونی پارکنگ مافیا کے قبضے میں چلی گئی ہیں، جس کے باعث ٹریفک جام روز کا معمول بن چکا ہے۔ شہریوں اور سماجی حلقوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کمشنر سکھر ڈویژن اور منتخب بلدیاتی نمائندوں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سکھر میونسپل کارپوریشن کے اہلکاروں کی مبینہ چشم پوشی اور مبینہ رشوت ستانی کے باعث گھنٹہ گھر کے گرد و نواح میں غیر قانونی پارکنگ ایریاز دوبارہ قائم کر دیے گئے ہیں۔ مصروف ترین کلاک ٹاور روڈ، کمرشل سینٹر، دھرم شالا، پان منڈی، شہید گنج، بیراج روڈ، ورکشاپ روڈ اور ملٹری روڈ پر سڑکوں کے دونوں اطراف پارکنگ لائنیں بنا کر عوامی آمد و رفت کو بری طرح متاثر کیا جا رہا ہے۔عینی شاہدین کے مطابق ٹریفک پولیس کے کچھ اہلکار مبینہ طور پر موٹر سائیکل سواروں اور کار ڈرائیوروں سے رقم لے کر گھنٹہ گھر کے اردگرد گاڑیاں کھڑی کرنے کی اجازت دیتے ہیں، جس کے باعث علاقہ مکمل پارکنگ ایریا میں تبدیل ہو چکا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے چند روز قبل اے ایس پی سٹی کے دورے کے بعد غیر قانونی پارکنگ ختم کرائی گئی تھی، تاہم چند ہی دنوں میں دوبارہ یہی عمل شدت سے شروع ہوگیا ہے۔رپورٹ کے مطابق شہر میں نہ صرف کاروباری علاقوں بلکہ نجی اور سرکاری اسپتالز کے باہر بھی ہاتھوں سے پارکنگ مافیا سرگرم ہے، جہاں آنے والوں سے زبردستی بھتہ وصول کیا جا رہا ہے۔ شہریوں نے بتایا کہ میونسپل کارپوریشن کے بعض اہلکاروں کی حمایت کے باعث غیر قانونی پارکنگ کا دھندہ تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ٹریفک جام کی بدترین صورتحال کے باعث دکانداروں، مریضوں کے لواحقین اور عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ دوپہر اور شام کے اوقات میں مرکزی سڑکوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں معمول بن چکی ہیں، جبکہ پیدل چلنے والوں کے لیے جگہ تک نہیں بچتی۔شہریوں اور سماجی رہنماؤں نے کہا کہ سکھر کی مرکزی شاہراہوں پر پارکنگ مافیا کا راج انتظامیہ کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میونسپل کارپوریشن غیر قانونی پارکنگ گھنٹہ گھر کے باعث

پڑھیں:

فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے

بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے ایک آنے والی فلم ’کالا ہرن‘ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فلم سازوں کو نوٹس جاری کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: میں اکیلا نہیں ہوں، سلمان خان کی انسٹا پوسٹ نے ماں سمیت لاکھوں مداحوں کو بے چین کردیا

فلم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی کہانی سنہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متاثر ہے جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے کو نوٹس بھجوایا ہے جس میں فلم کو اداکار کی شخصیت اور ساکھ کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی تشہیری مہم اور ریلیز فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالا ہرن کیس اب بھی راجستھان ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ فلم مبینہ طور پر سلمان خان کی شخصیت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔

سلمان خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے نہ تو اپنی شخصیت، نام یا اس واقعے سے متعلق کسی مواد کے استعمال کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

مزید پڑھیے: سلمان خان کی نقل کیوں کی؟ رجب بٹ نے اپنی اس حرکت کی وجہ بتادی

دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے قانونی نوٹس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے سلمان خان کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی نوٹس کا مقصد صرف فلم سے وابستہ افراد کو دباؤ میں لانا ہے۔

امیت جانی نے فیس بک پر لکھا کہ سلمان خان کالا ہرن سے وابستہ لوگوں کو قانونی نوٹس کے ذریعے دھمکا رہے ہیں لیکن یہ صرف خوف پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ لوگ دباؤ میں آ جائیں۔

فلم کے حوالے سے بحث اس وقت مزید تیز ہوگئی جب اس کا پہلا پوسٹر جاری کیا گیا۔ پوسٹر میں ایک شخص کو بندوق تھامے دکھایا گیا ہے جس نے فیروزی رنگ کا وہی بریسلٹ پہن رکھا ہے جو سلمان خان کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: سلمان خان کے 42 سال پرانے قریبی دوست کا انتقال، اداکار کا سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام

فلم سازوں کے مطابق ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگسی‘ حقیقی قانونی تنازعات اور ایکشن پر مبنی کہانی پیش کرے گی جبکہ اس کا ٹیزر 20 جون کو جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

کالا ہرن کیس کیا تھا؟

سنہ1998 میں فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر راجستھان کے ضلع جودھ پور کے قریب کنکانی گاؤں میں 2 کالے ہرن شکار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

اس مقدمے میں سلمان خان کے ساتھ اداکار سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم اور تبو کے نام بھی شامل تھے تاہم بعد میں دیگر تمام فنکاروں کو بری کر دیا گیا تھا۔

اپریل 2018 میں جودھ پور کی ایک عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت مل گئی۔

یہ بھی پڑھیے: رنویر سنگھ کے بعدسلمان خان کے بہنوئی کو بھی دھمکی آمیز پیغام موصول

سنہ 2022 میں راجستھان ہائیکورٹ نے اس کیس سے متعلق تمام مقدمات اپنے دائرہ اختیار میں لے لیے تھے جہاں اب بھی کارروائی جاری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بالی ووڈ سلمان خان سلمان خان اور کالا ہرن سلمان خان اور مقدمہ فلم کالا ہرن کالا ہرن

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے