پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی، جس میں اراکین نے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا۔
ذرائع کے مطابق سلمان اکرم راجا کے خلاف تحریک پیش کی گئی۔
اراکین نے رائے دی کہ سلمان اکرم راجا غیر سیاسی شخص ہے یہ کیسے سیکرٹری جنرل ہو سکتا ہے؟ سلمان اکرم راجا عمران خان کا پیغام صحیح طریقے سے نہیں پہنچاتے۔
پی ٹی آئی اراکین کا کہنا تھا کہ سلمان اکرم راجا نے تمام رہنماؤں سے گالم گلوچ کی ہے۔ علی ظفر، عالیہ حمزہ، مشال یوسفزئی سمیت دیگر رہنماؤں کے ساتھ سلمان اکرم راجا نے لڑائی کی۔
اراکین پارلیمانی پارٹی نے سلمان اکرم راجا کو سیکرٹری جنرل کے عہدے سے نکالنے کا مطالبہ کر دیا۔
ذرائع کے مطابق اراکین کہتے ہیں کہ سلمان اکرم راجا کے پاس پارٹی کے لیگل ہیڈ کی ذمہ داری ہے، جب سے سلمان اکرم راجا لیگل کمیٹی کے ہیڈ بنے ہیں بانی سے ملاقاتیں نہیں ہو رہی۔ سلمان اکرم راجا کو احتجاج کی کال دینے کی ذمہ داری دی گئی تھی مگر نومبر میں بھی کال نہیں دی گئی۔
اراکین پارلیمانی پارٹی کی آپس میں لڑائیاں، پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اراکین کے ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پارلیمانی پارٹی سلمان اکرم راجا
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔