1لاکھ روپے کا لولی پاپ دینے کے بجائے 3360 ارب کا حساب دیا جائے، جماعت اسلامی
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: جماعت اسلامی کراچی کے ترجمان نے شہر کی خراب صورتحال اور بلدیاتی اداروں کی ناکامی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ میئر کراچی اور واٹر کارپوریشن کے چیئرمین مرتضیٰ وہاب شہر کی بدترین حالت چھپانے کے لیے ہر یونین کمیٹی کو صرف ایک لاکھ روپے کا لالی پاپ دینے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ اصل سوال یہ ہے کہ گزشتہ 15 برس میں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے کراچی کے 3360 ارب روپے کہاں خرچ کیے؟
ترجمان کے مطابق پانی و سیوریج کے بلوں کی مد میں شہریوں سے وصول ہونے والے اربوں روپے کا کوئی حساب نہیں اور میونسپل ٹیکس کے جمع شدہ 4 ارب بھی یہ واضح کیے بغیر خرچ کر دیے گئے کہ وہ کس منصوبے پر لگے، کراچی کی موجودہ تباہی کی اصل ذمہ دار سندھ حکومت اور اس کے ماتحت ادارے ہیں جنہوں نے بجٹ کو کرپشن اور ذاتی مفادات کی نذر کر دیا۔
ترجمان نے کہا کہ کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے مگر یہاں کے عوام کے ساتھ مسلسل ناانصافی کی گئی۔ شہری حکومتی نااہلی سے تنگ آچکے ہیں اور کھل کر مطالبہ کر رہے ہیں کہ مرتضیٰ وہاب مستعفی ہوکر گھر جائیں، 17 سال میں کھربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود شہر میں گٹر کے ڈھکن تک نہیں لگے اور اب صرف ایک لاکھ روپے یوسیز میں تقسیم کرکے بدنامی کا بوجھ نچلی سطح پر ڈالا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک واٹر کارپوریشن ٹاؤن اور یوسی کے ماتحت نہیں آئے گا، اس قسم کے اعلانات محض عوام کو دھوکا دینے کے مترادف ہیں،کراچی کی صورتحال بدترین ہے ، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار، سیوریج نظام تباہ، کھلے مین ہول عوام کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں جبکہ واٹر کارپوریشن پانی کی فراہمی میں مکمل ناکام ہوچکا ہے۔
ترجمان جماعت اسلامی نے کہا کہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب شہر کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں پوری طرح ناکام رہے ہیں، نہ صفائی کا نظام بہتر ہے، نہ کچرا اٹھانے کا مستقل بندوبست، 3360 ارب روپے اور عوام کے ٹیکسوں کا حساب دینا ہوگا۔
ترجمان کے مطابق کراچی کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے فوری اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں، شہر کی بنیادی ضروریات پر فوری توجہ دی جائے، جماعت اسلامی ہر فورم پر کراچی کے عوام کے حقوق اور مسائل کے حل کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی عوام کے شہر کی کے لیے
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔