پی ٹی آئی نے عمران خان کی رہائی کے لیے دیگر صوبوں اور اوورسیز پاکستانیوں سے تعاون طلب کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف پر 9 مئی کے بعد سے مختلف پابندیاں عائد کی گئی ہیں، تاہم اب بھی ان پابندیوں کا سلسلہ رک نہیں رہا ہے اور اب حکومت نے بانی پی ٹی آئی سے جیل میں اہل خانہ کے ساتھ ملاقاتوں پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موجودہ آرمی چیف کے دور میں عمران خان کی رہائی ممکن ہے، بیرسٹر گوہر علی خان
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو اب تک عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں مل سکی ہے، بانی پی ٹی آئی عمران خان 28 ماہ سے جیل میں قید ہیں اور ان کی رہائی کے لیے متعدد احتجاج اور دھرنے ہو چکے ہیں، لیکن تاحال رہائی نہیں ہوسکی ہے، جبکہ رہائی کے لیے پی ٹی آئی کے متعدد کارکنان نے جان اور مال کی قربانیاں بھی دی ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبرپختونخوا کے صوبائی صدر جنید اکبر نے اب عمران خان کی رہائی کے لیے ملک بھر اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سے تعاون کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں بڑے پیمانے پر پارٹی کارکنان کو ریاستی دباؤ کا سامنا ہے اور متعدد کارکنوں پر مقدمات قائم کیے جارہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی احتجاج کے لیے تیار، مگر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی ماضی کے تجربات سے محتاط رہنے کے حامی
جنید اکبر کے مطابق فقط خیبر پختونخوا میں ستمبر میں 2 ہزار اور نومبر میں مزید 5 ہزار کارکنوں پر ایف آئی آر درج کی گئیں، جبکہ تقریباً 20 سے 22 ہزار کارکنان کو مختلف تحقیقات اور بلائے جانے کے مراحل سے گزارا گیا، انہوں نے کہا کہ ایم پی ایز، ایم این ایز اور تنظیمی ڈھانچے پر بھی اس صورتحال کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔
جنید اکبر نے ملک بھر کے پارٹی کارکنان، دیگر صوبوں کی تنظیموں اور اوورسیز پاکستانیوں سے اپیل کی کہ مشکل وقت میں خیبر پختونخوا کے کارکنوں کا ساتھ دیا جائے کیونکہ کارکنان کی گاڑیاں، وسائل اور آمدورفت مسلسل متاثر ہورہے ہیں، کارکنان کے کیسز اور عدالتوں میں آنے جانے کے لیے کم از کم 20 سے 25 لاکھ روپے کا خرچ آرہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی احتجاج میں اب اجتماعی استخارہ ہوگا، شیرافضل مروت کا طنز
صوبائی صدر نے کہا کہ مرکزی قیادت جو بھی فیصلہ کرے گی وہ اسے پوری ذمہ داری کے ساتھ نبھانے کی کوشش کرے گی۔ پی ٹی آئی کے پاس 2 ہی راستے ہیں، ملک گیر احتجاج یا مذاکرات، تاہم یہ واضح ہے کہ ایک صوبے کا احتجاج مؤثر نہیں ہوسکتا، اس کے لیے پورے پاکستان کا متحرک ہونا ضروری ہے۔ 22 ہزار بندوں کو احتجاج کے لیے نکالنا کہنا آسان ہے، لیکن جب کرے گا تو اسے معلوم ہوجائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات اسی وقت ممکن ہیں جب حکومت اور ادارے اپنے رویوں سے یہ ثابت کریں کہ وہ سنجیدگی سے سیاسی حل چاہتے ہیں۔ موجودہ صورتحال نہ ملک کے لیے بہتر ہے، نہ اداروں اور عوام کے درمیان بڑھتے فاصلے کسی کے فائدے میں ہیں۔ ایک طرف مذاکرات کی باتیں اور دوسری جانب ہمارے عمران خان سے ملاقات تک نہیں کرائی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی احتجاج: صوبائی وزیر شفیع جان کارکنوں کے ہمراہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے، سیکیورٹی ہائی الرٹ
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگرحکومت ایک قدم آگے بڑھے تو پی ٹی آئی کی قیادت بھی مثبت رویہ اپنائے گی، مگر تاحال حکومت کمزور اور فیصلوں میں بے اختیار نظر آرہی ہے۔
انہوں نے اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی میں تاخیر کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بظاہر بات چیت کی خواہش ظاہر کرتی ہے مگر عملی اقدامات اس کے برعکس ہیں، حکومت اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا نوٹیفکیشن بھی جاری نہیں کرسکی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news احتجاج پی ٹی آئی جیل حکومت رہائی عمران خان مذاکرات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی جیل حکومت رہائی مذاکرات خیبر پختونخوا رہائی کے لیے یہ بھی پڑھیں پی ٹی ا ئی پی ٹی آئی نے کہا کہ کی رہائی انہوں نے
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔