واٹر کارپوریشن سے پانی کی تقسیم کا مکمل مکینزم طلب
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251211-08-7
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ میں پی ای سی ایچ ایس سے چنیسر گوٹھ کو پانی کی لائن فراہم کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے واٹر کارپوریشن سے پانی کی تقسیم کا مکمل مکینزم طلب کرلیا اور ریمارکس دیے کہ بتایا جائے پانی کی تقسیم کس بنیاد پر کی جاتی ہے۔درخواست چیئرمین یوسی 8 جنید مکاتی اور چیئرمین یوسی 7 محمد سلیم کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جنہوں نے مؤقف اپنایا ہے کہ پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کے باعث شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ کیا طریقہ ہے کہ ایک علاقے کا پانی بند کرکے دوسرے علاقے کو پانی دیا جارہا ہے، درخواست گزاروں کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چنیسر ٹاؤن کو پانی کی لائن دینے کے بعد سے جناح ٹاؤن میں پانی کی شدید کمی پیدا ہوگئی ہے، شہری کئی دنوں سے پانی کے بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام آبادیوں کو مساوی طور پر پانی فراہم کرنا واٹر بورڈ کی ذمے داری ہے اور واٹر بورڈ کو کسی بھی علاقے سے 18 انچ کا کنیکشن کاٹ کر دوسرے علاقے کو دینے کا اختیار نہیں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پانی کی
پڑھیں:
نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اسکیم کے لیے اہلیت کیا ہو گی اس بارے میں تفصیلات آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں دیے جانے کی توقع ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت پنجاب نے نوجوانوں کو آئندہ مالی سال میں الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال میں 50 ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
پنجاب کے وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے کہا کہ ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت دی جائے گی، رجسٹریشن سمیت دیگر مراعات بھی دی جائیں گی۔ صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اسکیم کے لیے اہلیت کیا ہو گی اس بارے میں تفصیلات آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں دیئے جانے کی توقع ہے۔