پاکستان میں 80 فیصد آبادی کو پینے کیلئے صاف پانی دستیاب نہیں: ایشیائی ترقیاتی بینک
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
ایشیائی ترقیاتی بینک کی واٹر ڈویلپمنٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں 80 فیصد آبادی کو پینے کیلئے صاف پانی دستیاب نہیں ہے۔ایشیائی ترقیاتی بینک کی واٹر ڈویلپمنٹ آؤٹ لُک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پانی کے نظام میں گورننس کیلئے پاکستان کو آئندہ دس برسوں میں 35 سے 42 ارب ڈالر کی ضرورت ہو گی، آبادی بڑھنے کے باعث فی کس کیلئے پانی کی مقدار میں 24 سو کیوبک میٹر کی کمی ریکارڈ کی گئی۔اے ڈی بی کے مطابق 1972 سے لے کر 2030 تک ہر فرد کیلئے پانی کی مقدار 35 سو کیوسک میٹر سے کم ہو کر 11 سو کیوبک میٹر ہو گئی، پینے کیلئے صاف پانی کی عدم دستیابی کے باعث بیماریوں کا پھیلاؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق زراعت کیلئے زیادہ مقدار میں پانی استعمال ہونے کے باعث سطح میں کمی اور آلودگی بڑھ رہی ہے، پانی کے مخالف بہاؤ اور انفراسٹرکچر کے چیلنجز کے باعث پاکستان کے دریاؤں کے نظام کو خطرہ ہے۔کہا گیا ہے کہ دیہی علاقوں میں تاحال پانی کی سپلائی غیرمؤثر اور نگرانی کا عمل متاثر کن نہیں ہے، پانی کی دستیابی اور صاف پانی کی فراہمی کیلئے پالیسیاں بھی ڈیمانڈ کے مطابق نہیں ہیں، پاکستان میں زراعت، صعنت اور انرجی شعبے سمیت تمام شعبوں کا پانی کے مسائل کا سامنا ہے۔اے ڈی بی کے مطابق پاکستان کو پانی ذخیرہ کرنے کی کم صلاحیت اور نہری نظام بہتر نہ ہونے جیسے مسائل کا سامنا ہے، شہری علاقوں میں پانی کی سالانہ طلب میں تقریبا 10 فیصد اضافہ ہو رہا ہے، شہری علاقوں میں بغیر ٹریٹمنٹ شدہ پانی اور اربن فلڈنگ صحت اور خدمات کو متاثر کر رہے ہیں۔واٹر رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ شہری علاقوں میں پانی کا پرانا نظام ہے جبکہ نجی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے، آبادی میں اضافہ، شہروں کے پھیلاؤ اور بغیر ٹریٹمنٹ شدہ پانی کے باعث ماحولیاتی نظام کو خطرہ ہے۔یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان نے واٹر گورننس فریم ورک کی تیاری میں پراگریس ظاہر کی ہے، پاکستان میں پانی کا بہتر نظام بنانے کیلئے فنڈنگ بھی ناکافی ہے، پاکستان کے شہری علاقوں میں پانی کا ضیاع زیادہ اور ٹیرف سمیت کم ریکوری، ناقص بلنگ کا نظام ہے۔ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق پانی کا ذخیرہ بڑھانے کیلئے بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کی ضرورت ہے، اداروں کے درمیان شراکت داری، تکنیکی کپیسٹی اور مالیاتی پلاننگ نہ ہوئی تو مزید واٹر سیکیورٹی کو خطرہ بڑھے گا، موجودہ ڈالر ریٹ کے حساب سے تقریبا 12 ہزار ارب روپے تک پانی کے نظام پر خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔اے ڈی بی واٹر ڈویلپمنٹ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پانی کا انفراسٹرکچر بنانے کیلئے موجودہ فنڈ ناکافی قرار دیا ہے، گزشتہ 13 برسوں کے دوران پاکستان میں واٹر سکیورٹی سکور میں بہتری بھی ریکارڈ ہوئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔