بانی پی ٹی آئی بانی ایم کیوایم کے راستے پرتیزی سےگامزن ہیں، وہ جلد اپنے انجام کو پالیں گے، رانا ثنا اللہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناءاللہ نے کہاہے کہ بانی پی ٹی آئی وزیراعظم تھے ہم نے گوجرانوالہ میں جلسہ کیاتھا، نوازشریف نے ادارے کےخلاف کوئی لفظ نہیں بولا تھا، نوازشریف نے کہا تھا بانی پی ٹی آئی کی حکومت تباہی لائی،ذمہ داری قمرباجوہ پرہے، بانی پی ٹی آئی کے وقت کی اسٹیبلشمنٹ ان کےساتھ تھی، بانی پی ٹی آئی کے پروجیکٹ کو لایا گیا تھا،
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا اسٹیبلشمنٹ سےجھگڑا اس لیے ہوا کہ مخالفین کو نہیں چھوڑنا، بانی پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ کو کہہ رہے تھے کہ مخالفین کو مارو،اس بات پر جھگڑا ہوا، بانی پی ٹی آئی ذہنی مریض ہمیں کہتے ہیں، بانی پی ٹی آئی چاہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کو بلیک میل کرے تاکہ وہ ان کا ساتھ دیں، بانی ایم کیوایم نے جس دن پاکستان مردہ باد کا نعرہ لگایا اس کےبعد وہ کہاں گئے؟
آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 1 ارب 30 کروڑ ڈالر کی منظوری دے دی
ان کا کہناتھا کہ بانی پی ٹی آئی نےعظمیٰ خان کو کہا آپ نے یہ لفظ استعمال کرناہے، پی ٹی آئی کے85فیصد بانی تحریک انصاف کے ایجنڈے کے ساتھ نہیں، بھارت جو پروپیگنڈا کر رہا ہے وہی پی ٹی آئی کر رہی ہے ، بانی پی ٹی آئی جو سیاست کرنا چاہتےہیں وہ نہیں ہوسکتی،وہ سیاست کوجہاں لے جانا چاہتے ہیں پارٹی ان کے ساتھ نہیں چلے گی، بانی پی ٹی آئی بانی ایم کیوایم کے راستے پرتیزی سےگامزن ہیں، وہ جلد اپنے انجام کو پالیں گے، بانی پی ٹی آئی جو سیاست کرنا چاہتےہیں وہ نہیں ہوسکتی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف اوراڈیالہ تحریک انصاف الگ الگ جماعتیں ہوں گی، 10سے 15 فیصد لوگ اڈیالہ تحریک انصاف کے ساتھ چلےجائیں گے، باقی اکثریت اس بیانیے کےساتھ نہیں چلے گی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کی لندن میں برطانوی حکام سے ملاقات، چند پاکستانیوں کی حوالگی سے متعلق گفتگو
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی تحریک انصاف
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔