شمالی وزیرستان: مدرسے میں دھماکا، دو بچے جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی کے گاؤں عیسوڑی میں ایک افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک مدرسے میں دھماکے سے دو معصوم بچے شہید اور آٹھ زخمی ہوگئے۔
مقامی اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ دھماکا اس بارودی مواد کے پھٹنے سے ہوا جو خوارج کی جانب سے پہلے ہی علاقے میں چھوڑا گیا تھا، اور بچے کھیلتے ہوئے اس کی زد میں آگئے۔
سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ خوارج نے ماضی میں سکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت روکنے کے لیے مختلف مقامات پر بارودی سرنگیں بچھا رکھی تھیں۔ ان خطرناک مواد کی موجودگی نہ صرف فورسز بلکہ عام شہریوں، خصوصاً بچوں کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں مجموعی طور پر 114 مربع کلومیٹر رقبہ ایسا تھا جہاں بارودی سرنگیں اور بارودی آلات موجود ہونے کی نشاندہی کی گئی تھی۔
پاک فوج کی انجینیئرنگ کور اب تک 82 مربع کلومیٹر علاقے کو بارودی مواد سے مکمل طور پر صاف کر چکی ہے، جس کے دوران بڑی مقدار میں بارودی آلات تلف کیے گئے۔
سکیورٹی ادارے بتاتے ہیں کہ باقی ماندہ علاقوں کی ڈی مائننگ کا عمل تیزی سے جاری ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ جلد از جلد تمام متاثرہ علاقوں کو محفوظ بنایا جائے، تاکہ عوام، خصوصاً بچوں، کو اس مہلک خطرے سے مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔