ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی اور فیلڈ آفیسرز کی ملی بھگت سے غیرقانونی کام بڑے پیمانے پر جاری
پلاٹ نمبر 684،261، کی کمزور بنیادوں پر بالائی منزلوں کا بوجھ دھڑلے سے ڈالا جانے لگا

ضلع وسطی کے گھنے آبادی والے علاقے گلبہار میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے جاگتے وجود کے باوجود غیرقانونی تعمیرات کا سلسلہ تواتر سے جاری ہے ۔بغیر منظور شدہ نقشوں، تعمیراتی اجازت ناموں اور بلڈنگ قوانین کی پاسداری کے تعمیر ہونے والی نئی عمارتیں نہ صرف قانونی ضوابط کو للکار رہی ہیں بلکہ ہزاروں شہریوں کی زندگیوں کو بھی داؤ پر لگا رہی ہیں۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے مقامی رہائشیوں کا الزام ہے کہ ایس بی سی اے کے مقامی ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی اور فیلڈ آفیسرز کی ملی بھگت سے ہی یہ غیرقانونی کام بڑے پیمانے پر ہو رہے ہیں۔’’رپورٹ کرنے پر بھی کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ یا تو افسر نظر انداز کر دیتے ہیں، یا پھر تعمیر کرنے والے انہیں ’سیٹل‘ کر لیتے ہیں۔ ہمارے علاقے میں تو ایس بی سی اے کا کوئی وجود ہی دکھائی نہیں دیتا،’’ایک اور رہائشی عمران کا کہنا ہے کہ ’’ہمارے گھر کے سامنے والے پلاٹ پر پرانی کمزور عمارت پر بالائی منزل کی تعمیر کا کام دھڑلے سے جاری ہے ، ہم نے ایس بی سی اے کی ہیلپ لائن پر درجنوں کالز کیں، آن لائن شکایت درج کروائیں، مگر جواب کا انتظار ہی ہے ۔اس وقت بھی پلاٹ نمبر A684 لیاقت چوک اور 261سینٹری مارکیٹ کمزور بنیادوں پر بالائی منزلوں کی تعمیر جاری ہے ،ایس بی سی اے کے ترجمان نے اس معاملے پر کہا ہے کہ اتھارٹی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرتی رہتی ہے اور گلبہار میں بھی ماضی میں کچھ ڈھانچے سیل کیے گئے ہیں۔ان کا دعویٰ ہے کہ ’’ہم رشوت ستانی کی کسی بھی شکایت کی فوری طور پر تحقیقات کرتے ہیں۔ عوام سے گزارش ہے کہ وہ ہمارے ہیلپ لائن نمبر یا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مستند معلومات کے ساتھ شکایت درج کرائیں، ہم ضرور کارروائی کریں گے ۔تاہم، شہری حقوق کے کارکن علی حیدر کا کہنا ہے کہ یہ بیانات محض کاغذی کارروائی ہیں۔ ’’ایس بی سی اے کی پورا نظام ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ۔ نجی تعمیرات کی نگرانی کے لیے نہ افرادی قوت ہے ، نہ ایمانداری، اور نہ ہی سیاسی مرضی۔ نتیجہ یہ ہے کہ غریب شہریوں کی زندگیوں سے کھلواڑ ہو رہا ہے ۔”شہری منصوبہ بندوں کا خیال ہے کہ گلبہار جیسے پرانے علاقوں میں غیرمنصوبہ بند تعمیرات سے بنیادی ڈھانچے پر ناقابل برداشت دباؤ پڑ رہا ہے ، جس کے ماحولیاتی اور سماجی اثرات کراچی کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہوں گے ۔ ان کا مطالبہ ہے کہ غیرقانونی تعمیرات کے خلاف صرف سیلنگ ہی نہیں، بلکہ ذمہ دار افسران کے خلاف بھی سخت انسداد بدعنوانی کی کارروائی ہونی چاہیے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: غیرقانونی تعمیرات ایس بی سی اے

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے