امیرجماعت اسلامی سکھر کی ریجنل ہیڈ گیس کمپنی سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251210-11-7
سکھر (نمائندہ جسارت) سکھر کے علاقے پرانہ سکھر میں گیس کی مسلسل بندش کے مسئلے پر جماعت اسلامی ضلع سکھر کے امیر زبیر حفیظ شیخ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ریجنل ہیڈ سوئی سدرن گیس کمپنی جئے کمار چاولہ سے ملاقات۔ وفد میں صدر جے آئی مائنارٹی ونگ سکھر روپ چند، واجد بھٹو کے علاوہ خواتین رہنماؤں ثمینہ شوکت، ماروی احمد اور پرانے سکھر کے علاقوں جنات بلڈنگ، بابن شاہ سمیت کئی متاثرہ علاقوں کی خواتین نے شرکت کی۔ زبیر حفیظ شیخ نے ریجنل ہیڈ کو سکھر اور اولڈ سکھر میں جاری شدید گیس بحران کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ گیس بحران نے شہریوں کی روزمرہ زندگی مفلوج کرکے رکھ دی ہے، کئی روز سے گیس کی مسلسل بندش کے باعث گھریلو چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں اور عوام شدید ذہنی پریشانی کا شکار ہیں۔ گیس کی عدم فراہمی کے باعث شہری مہنگے متبادل ذرائع استعمال کرنے پر مجبور ہیں جبکہ بارہا شکایات کے باوجود تاحال ذمہ دار افسران کوئی مؤثر اقدام اٹھانے میں ناکام رہے ہیں۔ وفد نے ملاقات کے دوران بتایا کہ پرانہ سکھر کے متعدد علاقوں میں گیس کا نظام بری طرح متاثر ہے، صبح و شام کے اہم اوقات میں بھی گیس نہ ہونے سے گھریلو زندگی شدید متاثر ہے اور عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جماعت اسلامی کے وفد نے صورتحال کا جائزہ لے کر گیس بحران کے حل کے لیے فوری اقدامات کیے جانے کا مطالبہ کیا۔ جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھاتی رہے گی اور انتظامیہ کو اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے ٹھوس حکمتِ عملی اختیار کرنی ہوگی۔ ریجنل ہیڈ جئے کمار کی جانب سے پرانہ سکھر کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر فوری حل کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی ریجنل ہیڈ سکھر کے
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔