شکارپور؛ پولیس مقابلے میں 8 ڈاکو ہلاک، خاتون ڈی ایس پی بھی زخمی
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
سکھر(نیوز ڈیسک)شکارپور میں پولیس نے بڑا آپریشن کرتے ہوئے 8 ڈاکوؤں کو ہلاک کر دیا جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
آپریشن کے دوران 2 ڈی ایس پیز سمیت اور دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس زخمیوں میں خاتون ڈی ایس پی پارس بکھرانی اور ڈی ایس پی ظھور احمد سومرو شامل ہیں۔
ہلاک 4 ڈاکوؤں کی شناخت امداد شیخ، شدن شیخ، شھمور شیخ اور برکت شيخ کے ناموں سے ہوئی ہے۔ ڈاکوؤں کی لاشیں جائے وقوع پر موجود ہیں اور مزید ڈاکوؤں کی شناخت جاری ہے۔
دوسری جانب، زخمی ڈی ایس پی پارس بکھرانی کو سکھر ڈسٹرکٹ کونسل کی جانب سے ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کیا جا رہا ہے۔
ڈسٹرکٹ چیئرمین سکھر سید کمیل حیدر شاہ نے بتایا کہ زخمی ڈی ایس پی پارس بکھرانی کو ضیاء الدین اسپتال سے کراچی منتقل کیا جا رہا ہے۔ ہمیں شکارپور پولیس پر فخر ہے جس نے سندھ پولیس کا سر فخر سے بلند کیا۔
ضلعی چیئرمین سید کمیل حیدر شاہ کا کہنا تھا کہ سید کمیل حیدر شاہ پارس بکھرانی سندھ کی بہادر بیٹی ہے، ہم ان کی ہمت کو سلام پیش کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پارس بکھرانی ڈی ایس پی
پڑھیں:
فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز(security forces) نے 24 مئی 2026 کو پیش آنے والے ریل حادثے کے بعد خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں کارروائیاں کیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلوں کے دوران بھارتی اسپانسرڈ فتنۃ الہندوستان کے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا اور ان علاقوں میں سرگرم دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارتی اسپانسرڈ ہلاک دہشت گردوں کے زیرقبضہ ہتھیار، باردو اور بڑے پیمانے دھماکا خیز مواد اور مواد تیار کرنے کی ڈیوائسز برآمد کرلی گئیں۔
بیان میں بتایا گیا کہ ہلاک دہشت گرد بلوچستان کے ان علاقوں میں دہشت گردی کے کئی اہم واقعات میں ملوث رہے تھے۔
مزید پڑھیں:پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ علاقے سے دہشت گردوں کے صفایا کرنے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے، سیکیورٹی فورسز اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عزم استحکام وژن کے تحت دہشت گردی کے خاتمہ کی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی اسپانسرڈ اور تعاون سے جاری دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ ہو۔