ایبٹ آباد،ڈی ایچ کیو اسپتال سےاغوا لیڈی ڈاکٹر کابہیمانہ قتل
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
ایبٹ آباد:ایبٹ آباد میں ڈی ایچ کیو اسپتال سے مبینہ اغوا ہونے والی ڈاکٹر وردہ کی لاش لڑی بنوٹا کے مقام سے مل گئی۔
رپورٹ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ ڈی ایچ کیو اسپتال میں تعینات ڈاکٹر وردہ 4 دسمبر کو اپنی دوست کے ساتھ گاڑی میں اسپتال سے گئی تھیں۔
ڈاکٹر وردہ نے 67 تولہ سونا اور رقم اپنی دوست کے پاس امانت کے طور رکھوایا تھا، پوسٹ مارٹم کے لیے لاش اسپتال منتقل کردی گئی، لواحقین نے الزام لگایا کہ سونا اور رقم واپس مانگنے پر ڈاکٹر وردہ کو اغوا کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کے اغواءکے الزام میں ان کی دوست اور ان کے ڈرائیور کو حراست میں لیا گیا تھا۔
واقعے کی تحقیقات ہر پہلو سے کی جا رہی ہیں۔ڈاکٹر وردہ کے والد کی مدعیت میں واقعے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے ڈاکٹر کے اغوا کے خلاف صوبہ بھر میں احتجاج اور ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کی اس دوست نے اسے کرائے کے قاتلوں کے حوالے کیا اور اب اس کی لاش ٹھنڈیانی کے جنگلات میں دفن ہوئی ملی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ڈاکٹر وردہ
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔