data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان کی معروف انفارمیشن سروسز اور ٹیکنالوجی انوویشن کمپنی، زونگ نے آج اپنے ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں ایک خصوصی اعلیٰ سطحی تقریب کا انعقاد کیا جو ملک کی ڈیجیٹل ترقی کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ اس تقریب کی مہمان خصوصی وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن ،محترمہ شزہ فاطمہ خواجہ تھیں جنہوں نے باضابطہ طور پر زونگ کے جدید ترین ٹیر-III سرٹیفائیڈ ڈیٹا سینٹر کا افتتاح کیا، جو پاکستان کے تیزی سے ترقی پذیر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں ایک نمایاں پیش رفت ہے۔ تقریب میں سینئر سرکاری حکام، انڈسٹری کے نمایاں رہنما اور معزز مہمان بھی موجود تھے۔

یہ جدید سہولت زونگ کی پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو محفوظ، قابل توسیع اور مستقبل کی تکنیکی ضروریات کے مطابق مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ بین الاقوامی ٹیر-III معیار کے مطابق ڈیزائن اور تعمیر کیا گیا یہ ڈیٹا سینٹر زونگ کے وژن کا عملی مظہر ہے جس کا مقصد کلاؤڈ سولوشنز، انٹرپرائز سروسز، مصنوعی ذہانت کی جدت، انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) ایپلیکیشنز، جدید سائبر سیکیورٹی اور اگلی نسل کی کنیکٹوٹی کو ممکن بناتے ہوئے پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کو تقویت دینا ہے۔ جدید ترین سرور آرکیٹیکچر اور توانائی کی بچت کرنے والے نظاموں سے آراستہ یہ ڈیٹا سینٹر، زونگ کی عالمی معیار کی پائیداری اور جدیدیت کی وابستگی کی بہترین مثال ہے، جو ملک بھر میں ڈیجیٹلائزیشن کی حکمت عملیوں کو بھی تقویت دیتا ہے۔ یہ اسٹریٹیجک سرمایہ کاری نہ صرف پاکستان کی تکنیکی صلاحیتوں کو بڑھاتی ہے بلکہ زونگ کو ملک کی ڈیجیٹل معیشت کے اہم محرک کے طور پر مستحکم کرتی ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن ، شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا،””آج اس ڈیٹا سینٹر کا افتتاح پاکستان کی تیز رفتار ڈیجیٹل تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ مضبوط اور جدید قومی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر ملک کی اقتصادی ترقی، جدت اور روزگار کے مواقع کے لیے ناگزیر ہے ۔ ہم ایسے شراکت داروں کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو حکومت کے وژن کے عین مطابق مسلسل جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں تاکہ پاکستان کو مربوط اور ڈیجیٹل طور پر بااختیار بنایا جا سکے۔”

زونگ فورجی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب ہوو جن لی (Huo Junli)نے کہا،”یہ ہمارے لیے باعث فخر ہے کہ ہم وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن اور معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کے ڈیجیٹل وژن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ زونگ فورجی عالمی معیار کی انفارمیشن سروسز اور تکنیکی جدت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، جو ایک جامع اور موثر ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کے قیام میں معاون ثابت ہوں۔ ہمارے کلاؤڈ انٹیلیجنٹ کمپیوٹنگ سینٹر، مصنوعی ذہانت سے چلنے والا پلیٹ فارم اور کلاؤڈ سولوشنز کی لانچ پاکستان کے ڈیجیٹل خواب کو حقیقت کا روپ دینے کی جانب اہم پیش رفت ہیں۔ ہم وفاقی وزیر کی قیادت اور حوصلہ افزائی کے شکر گزار ہیں اور مل کر پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کو تیز کریں گے۔”

افتتاحی تقریب کے دوران زونگ کی قیادت کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے مظاہرے اور پریزنٹیشنز بھی دی گئیں، جن میں مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، انٹرنیٹ آف تھنگز، اور نیٹ ورک ماڈرنائزیشن کی جدید پیش رفت کو اجاگر کیا گیا۔

زونگ فورجی نے وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے ساتھ قریبی شراکت داری کے ذریعے جدت کو فروغ دینے، ڈیجیٹل رسائی کو وسعت دینے اور پاکستان کی آئی سی ٹی شعبے کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرنے کے عزم کو دہرایا، اور ملک کی ڈیجیٹل معیشت میں اپنی کلیدی حیثیت کو مزید مستحکم کیا۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کی ڈیجیٹل معیشت پاکستان کی وفاقی وزیر ڈیٹا سینٹر پاکستان کے زونگ فورجی ملک کی

پڑھیں:

کلچر کب تہذیب بنتا ہے

سماجی و کلچرل ارتقا ایک جامع اصطلاح ہے جو کلچرل ارتقاCultural Evolutionاور سماجی ارتقاSocial evolution کے مختلف نظریات پر مشتمل ہے۔یہ نظریات اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ کلچرز اور معاشرے وقت کے ساتھ کس طرح بدلتے اور ترقی کرتے ہیں۔سماجی و کلچرل ارتقا کو ایک ایسے عمل کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے جس میں وقت گزرنے کے ساتھ معاشرے کی ساخت اور تنظیم میں تبدیلی آتی ہے اور معاشرہ ایک ایسی شکل اختیار کر لیتا ہے جو اپنی ابتدائی شکل سے معیار،خصوصیات اور ساخت کے لحاظ سے نمایاں طور پر مختلف ہوتا ہے۔

ماہرینِ بشریات یعنی اینتھروپالوجسٹ اور ماہرینِ عمرانیات عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ انسان فطری طور پر سماجی رجحانات رکھتا ہے اور اس کے بہت سے سماجی رویوں کی وجوہات جینیاتی یعنی وراثتی نہیں ہوتیں بلکہ ان کے پیچھے سماجی عوامل اور مختلف حالات کارفرما ہوتے ہیں۔معاشرے ایک پیچیدہ سماجی ماحول میں وجود پذیر ہوتے ہیں اور خود کو اس ماحول کے مطابق ڈھالتے رہتے ہیں۔اسی لیے یہ ایک لازمی حقیقت ہے کہ تمام معاشرے وقت کے ساتھ تبدیلی سے گزرتے رہتے ہیں۔

سماجی و کلچرل ارتقا کے نظریات پیش کرنے والوں میںAuguste Comte،ہربرٹ  سر اور لیوس مورگن نمایاں تھے۔ان کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ آہستہ آہستہ زیادہ مہذب اورترقی یافتہ بنتے جاتے ہیں۔ان نظریات سے بھی بہت پہلے چودھویں صدی عیسوی کے عظیم مسلمان تاریخ دان اور مفکر ابنِ خلدون نے یہ نتیجہ اخذکیا تھا کہ معاشرے زندہ جانداروںLiving organizms کی مانند ہوتے ہیں۔وہ قدرتی اور آفاقی اسباب کے تحت ایک چکرCycleسے گزرتے ہیں یعنی ان کی پیدائش،نشوونما،بلوغت اور آخرکار ان کے لیے موت ناگزیر ہو جاتی ہے۔جرمن فلسفی ہیگلHegel کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک قدیم ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں۔

شاید اس وقت وہ حالتِ فطرت میں ہوتے ہیں اور پھر ترقی کرتے ہوئے صنعتی یورپ جیسے معاشرے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔اسی طرح ایڈم فرگوسن،جان ملر اور ایڈم اسمتھ کا موقف تھا کہ تمام معاشرے ترقی کے چار بنیادی مراحل سے گزرتے ہیں پہلا مرحلہ شکار اور خوراک جمع کرنے کا دور،دوسرا مویشی پالنے اور خانہ بدوشی کا دور،تیسرا مرحلہ زرعی دور اور چوتھا تجارت اور صنعت کا دور۔اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ تمام ماہرین ابنِ خلدون کے خوشہ چین نظر آتے ہیں۔

تہذیب ،سویلائزیشن کی اصطلاح بنیادی طور پر انسانی کلچر کے اس مادی اور عملی پہلو کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ٹیکنالوجی،سائنس اور محنت کی تقسیم یعنیDivision of Labourکے لحاظ سے بہت ترقی یافتہ اور پیچیدہ ہو۔قدیم زمانے میں مہذب لوگوں کی اصطلاح اس لیے استعمال کی جاتی تھی تاکہ انھیں وحشی اور ابتدائی Primitiveسے الگ ظاہر کیا جا سکے۔آج کے دور میں مہذب معاشروں کا تقابل اکثر مقامی یا قبائلی معاشروں سے کیا جاتا ہے۔یہ امر بھی بہت افسوس ناک ہے کہ بظاہر تہذیب یافتہ اقوام نے وسائل پر قبضے کے لیے بظاہر وحشیوں پر بہت مظالم ڈھائے۔تاہم آج کل اس اصطلاح کو پہلے کی نسبت زیادہ وسیع معنی میں استعمال کیا جاتا ہے جہاں تہذیب اور کلچر کو تقریباً ایک ہی مفہوم میں لیا جاتا ہے۔اس وسیع مفہوم کے مطابق تہذیب سے مراد کوئی بھی اہم نمایاں اور واضح طور پر منظم انسانی معاشرہ ہو سکتا ہے۔

ایک اینتھروپالوجسٹ کے مطابق کلچر اس وقت تہذیب میں ڈھل جاتا ہے جب خاندان،گروہ یا سوسائٹی جسمانی،ذہنی یا مالی طور پر معذور فرد کی نگہداشت شروع کر دیتی اور اس کے لیے اسپتال اور ادارے وجود میں آجاتے ہیں۔انھیں معذور ہونے کی بنا پر مرنے کے لیے نہیں چھوڑ دیا جاتا۔اس نے کہا کہ کھدائیوں کے دوران اگر کسی ڈھانچے کی ٹوٹی ہوئی ہڈی جڑی ہوئی ملے تو سمجھ جانا چاہیے کہ اس معاشرے نے معذور افراد کی دیکھ بھال کے نظام کو عملی طور پر اپنا رکھا تھا ورنہ وہ فرد خود کسی قابل نہ ہونے کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر بھوک اور پیاس سے مر جاتا۔

 تہذیب انسانی معاشرے کی ترقی کی وہ بظاہر اعلیٰ ترین منزل ہے جہاں لوگ صرف اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں رہتے بلکہ self actualizationکی طرف قدم بڑھاتے،منظم سیاسی،معاشی،سماجی،علمی،مذہبی اور کلچرل ادارے تشکیل دیتے ہیں۔تہذیب دراصل انسانی زندگی کے اس منظم اور ترقی یافتہ نظام کا نام ہے جس میں علم،فن، قانون، ریاست، عدالت، تجارت، شہروں کا بسایا جانا،نمایندہ عمارتوں کی تعمیر،روزافزوں ترقی کرتی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سب ایک دوسرے سے مل کر ایک مستحکم معاشرہ وجود میں لاتے ہیں۔لفظ سویلائزیشن لاطینی لفظ Civisیعنی شہری سے نکلا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہذیب کا شہری زندگی،منظم حکومت اور اجتماعی اداروں سے گہرا تعلق ہے۔تہذیب کلچر کا منظم،ترقی یافتہ اور ادارہ جاتی Institutionalizedروپ ہے جس میں حکومت،قانون،عدالت،شہروں کی منصوبہ بندی،تجارت،سائنس اور ٹیکنالوجی شامل ہو جاتے ہیں۔

آرنلڈ ٹائن بی کے مطابق Civilization rise where societies successfully respond to challenges..ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر کلچر تہذیب میں نہیں ڈھلتا لیکن جب اس کے اندر یہ عناصر جیسے خانہ بدوشی کے بجائے مستقل آبادیاں قائم ہو جائیں،زراعت فوڈ سیکیورٹی کی ضامن بن جائے،منظم حکومت ،معاشی نظام ہو،سماجی ادارے بن جائیں،سائنس اور ٹیکنالوجی،فنونِ لطیفہ،مذہب، فلسفہ اور محنت کی تقسیم ہو تو کلچر، تہذیب کہلا سکتا ہے۔

تہذیبوں کے زوال کے عمومی اسباب کا جائزہ لیں تو یہ سامنے آتا ہے کہ یہ عظیم تہذیبیں جب اخلاقی انحطاط کا شکار ہوئیں،سیاسی بدعنوانی حد کو چھونے لگی،معاشی بحران نے جنم لے لیا،بیرونی حملے روکے نہ جا سکے،باہم اختلافات بہت بری صورت اختیار کر گئے،علمی و فکری جمود طاری ہوا اورماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے قابل نہ رہیں تو یہ تہذیبیں زوال آشنا ہو کر مٹ گئیں۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی، کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کردیا گیا
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا