زونگ فورجی جدید ترین کلاؤڈ انٹیلیجنٹ کمپیوٹنگ سینٹر کاباضابطہ افتتاح کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان کی معروف انفارمیشن سروسز اور ٹیکنالوجی انوویشن کمپنی، زونگ نے آج اپنے ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں ایک خصوصی اعلیٰ سطحی تقریب کا انعقاد کیا جو ملک کی ڈیجیٹل ترقی کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ اس تقریب کی مہمان خصوصی وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن ،محترمہ شزہ فاطمہ خواجہ تھیں جنہوں نے باضابطہ طور پر زونگ کے جدید ترین ٹیر-III سرٹیفائیڈ ڈیٹا سینٹر کا افتتاح کیا، جو پاکستان کے تیزی سے ترقی پذیر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں ایک نمایاں پیش رفت ہے۔ تقریب میں سینئر سرکاری حکام، انڈسٹری کے نمایاں رہنما اور معزز مہمان بھی موجود تھے۔
یہ جدید سہولت زونگ کی پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو محفوظ، قابل توسیع اور مستقبل کی تکنیکی ضروریات کے مطابق مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ بین الاقوامی ٹیر-III معیار کے مطابق ڈیزائن اور تعمیر کیا گیا یہ ڈیٹا سینٹر زونگ کے وژن کا عملی مظہر ہے جس کا مقصد کلاؤڈ سولوشنز، انٹرپرائز سروسز، مصنوعی ذہانت کی جدت، انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) ایپلیکیشنز، جدید سائبر سیکیورٹی اور اگلی نسل کی کنیکٹوٹی کو ممکن بناتے ہوئے پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کو تقویت دینا ہے۔ جدید ترین سرور آرکیٹیکچر اور توانائی کی بچت کرنے والے نظاموں سے آراستہ یہ ڈیٹا سینٹر، زونگ کی عالمی معیار کی پائیداری اور جدیدیت کی وابستگی کی بہترین مثال ہے، جو ملک بھر میں ڈیجیٹلائزیشن کی حکمت عملیوں کو بھی تقویت دیتا ہے۔ یہ اسٹریٹیجک سرمایہ کاری نہ صرف پاکستان کی تکنیکی صلاحیتوں کو بڑھاتی ہے بلکہ زونگ کو ملک کی ڈیجیٹل معیشت کے اہم محرک کے طور پر مستحکم کرتی ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن ، شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا،””آج اس ڈیٹا سینٹر کا افتتاح پاکستان کی تیز رفتار ڈیجیٹل تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ مضبوط اور جدید قومی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر ملک کی اقتصادی ترقی، جدت اور روزگار کے مواقع کے لیے ناگزیر ہے ۔ ہم ایسے شراکت داروں کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو حکومت کے وژن کے عین مطابق مسلسل جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں تاکہ پاکستان کو مربوط اور ڈیجیٹل طور پر بااختیار بنایا جا سکے۔”
زونگ فورجی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب ہوو جن لی (Huo Junli)نے کہا،”یہ ہمارے لیے باعث فخر ہے کہ ہم وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن اور معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کے ڈیجیٹل وژن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ زونگ فورجی عالمی معیار کی انفارمیشن سروسز اور تکنیکی جدت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، جو ایک جامع اور موثر ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کے قیام میں معاون ثابت ہوں۔ ہمارے کلاؤڈ انٹیلیجنٹ کمپیوٹنگ سینٹر، مصنوعی ذہانت سے چلنے والا پلیٹ فارم اور کلاؤڈ سولوشنز کی لانچ پاکستان کے ڈیجیٹل خواب کو حقیقت کا روپ دینے کی جانب اہم پیش رفت ہیں۔ ہم وفاقی وزیر کی قیادت اور حوصلہ افزائی کے شکر گزار ہیں اور مل کر پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کو تیز کریں گے۔”
افتتاحی تقریب کے دوران زونگ کی قیادت کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے مظاہرے اور پریزنٹیشنز بھی دی گئیں، جن میں مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، انٹرنیٹ آف تھنگز، اور نیٹ ورک ماڈرنائزیشن کی جدید پیش رفت کو اجاگر کیا گیا۔
زونگ فورجی نے وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے ساتھ قریبی شراکت داری کے ذریعے جدت کو فروغ دینے، ڈیجیٹل رسائی کو وسعت دینے اور پاکستان کی آئی سی ٹی شعبے کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرنے کے عزم کو دہرایا، اور ملک کی ڈیجیٹل معیشت میں اپنی کلیدی حیثیت کو مزید مستحکم کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کی ڈیجیٹل معیشت پاکستان کی وفاقی وزیر ڈیٹا سینٹر پاکستان کے زونگ فورجی ملک کی
پڑھیں:
200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مودی حکومت نے رات کی تاریکی میں مسمار کردیا
انہدامی کارروائی محض 22 منٹ میں 5 بلڈوزرز کے ذریعہ انجام دی گئی، یہ مسجد تقریباً 42 فیٹ اونچی تھی، جسکو مسمار کئے جانے کے بعد ملبہ راتوں رات ٹرکوں میں بھر کر وہاں سے ہٹادیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر وارانسی میں گزشتہ شب مودی حکومت نے 200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مسمار کر دیا اور ساتھ ہی وہاں موجود مزار اور قبرستان کے کچھ حصہ کو بھی منہدم کر دیا گیا۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ مسجد کو منہدم کرنے کی کارروائی محض 22 منٹ میں 5 بلڈوزرز کے ذریعہ انجام دی گئی۔ یہ مسجد تقریباً 42 فیٹ اونچی تھی، جس کو مسمار کئے جانے کے بعد ملبہ راتوں رات ٹرکوں میں بھر کر وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ یعنی بدھ کی صبح جب لوگ اس جگہ سے گزرے تو مسجد اور مزار کا نام و نشان مٹ چکا تھا۔
ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ کل دیر شب تقریباً 12 بجے انتظامیہ کے اعلیٰ افسران 1000 سے زائد جوانوں کے ساتھ "از غیب شہید مسجد" کے پاس پہنچے اور علاقہ کا معائنہ کیا۔ ڈی سی پی کاشی گورو بنسوال اور اے ڈی سی پی ویبھو بانگر نے مسجد کے چاروں طرف بیریکیڈنگ کروائی اور لوگوں کی آمد و رفت پر روک لگا دی گئی۔ حتیٰ کہ میڈیا اہلکاروں کو بھی اس جگہ پر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ رات کی تاریکی میں خاموشی کے ساتھ یہ کام ہوا اور جب تک مسجد منہدم ہونے کی خبر لوگوں تک پہنچی، ملبہ بھی وہاں سے ہٹایا جا چکا تھا۔
انتظامیہ نے مسجد منہدم کرنے کے لئے رات کی تاریکی کا انتخاب کرنے کی کوئی آفیشیل وجہ نہیں بتائی۔ پولیس اہلکاروں نے یہ ضرور کہا کہ ٹریفک سے بچنے کے لئے رات میں کارروائی کی گئی۔ راج گھاٹ واقع کاشی ریلوے اسٹیشن کے احاطہ میں موجود اس مسجد کو منہدم کرنے سے پہلے اے سی پی شیوہری مینا نے افسروں کے ساتھ پہنچ کر جائزہ لیا تھا۔ بعد ازاں سخت سیکورٹی میں مزار اور اس کے قریب بنی مسجد کو مسمار کر دیا گیا۔ موصولہ اطلاع کے مطابق بھدؤ چنگی واقع قلعہ کوہنا علاقہ میں "از غیب شہید کی مسجد اور قبرستان کئی سالوں سے تنازعہ کا شکار رہا۔
مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ مسجد 200 سال قدیم تھی۔ مسجد کے متولی شمیم استاد تھے، جن کا 2 ماہ قبل انتقال ہو چکا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ ریلوے کی پرانی زمین ہے، جس پر کچھ لوگوں نے ناجائز قبضہ کر پہلے مزار بنائی، اور بعد میں مسجد و قبرستان کی تعمیر کی گئی۔ 2024ء میں کاشی ماڈل ریلوے اسٹیشن کا منصوبہ سامنے آیا، جس کے بعد زمین کی پیمائش کرائی گئی اور مسجد کی تعمیر ناجائز قبضہ والی زمین پر ہونے کا پتہ چلا۔ از غیب شہید مسجد کی انہدامی کارروائی سے متعلق رپورٹ "این ڈی ٹی وی" پر بھی شائع ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اس جگہ ایک ہنومان مندر بھی تھا، اسے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔