لاڑکانہ اور سکھر میں میگنفائنگ سائنس سینٹر قائم کیے جائیں گے‘ وزیر اعلیٰ
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کا ثقافتی ورثہ اور سائنسی روایت دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے جوکہ صوبے بھر میں سائنسی لٹریسی، اختراع اور جامع تعلیم کے فروغ کے لیے سندھ حکومت کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ لاڑکانہ اور سکھر میں میگنفائنگ سائنس سینٹر قائم کیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے یہ بات سندھی ثقافتی دن کے موقع پر داؤد فاؤنڈیشن کے میگنیفائی سائنس سینٹر میں انٹرایکٹو نمائش‘ لوسٹ سٹیز آف دی انڈس ڈیلٹا کی افتتاحی تقریب میں بطورِ مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں داؤد فاؤنڈیشن کے چیئرمین حسین داؤد، داؤد خاندان کے اراکین، ماہرین تعلیم، طلبا، محققین اور سول سوسائٹی کے معزز افراد نے شرکت کی۔ مرادعلی شاہ نے کہا کہ یہ نمائش اس بات کی واضح یاد دہانی کراتی ہے کہ سندھ ہزاروں سالوں سے علم، شہری منصوبہ بندی اور تخلیقی صلاحیتوں کا گہوارا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی سندھ کی تہذیب دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ہے جو اپنے سائنسی طبع، پائیدار انجینئرنگ، فنون لطیفہ اور دستکاری کے لیے مشہور ہے۔ آج انڈس ڈیلٹا کے گمشدہ شہروں کے افتتاح نے ہمیں ایک بار پھر اپنے شاندار ورثے سے جوڑ دیا ہے جسے جدید، سائنسی انداز میں اپنی نئی نسل کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔