data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کا ثقافتی ورثہ اور سائنسی روایت دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے جوکہ صوبے بھر میں سائنسی لٹریسی، اختراع اور جامع تعلیم کے فروغ کے لیے سندھ حکومت کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ لاڑکانہ اور سکھر میں میگنفائنگ سائنس سینٹر قائم کیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے یہ بات سندھی ثقافتی دن کے موقع پر داؤد فاؤنڈیشن کے میگنیفائی سائنس سینٹر میں انٹرایکٹو نمائش‘ لوسٹ سٹیز آف دی انڈس ڈیلٹا کی افتتاحی تقریب میں بطورِ مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں داؤد فاؤنڈیشن کے چیئرمین حسین داؤد، داؤد خاندان کے اراکین، ماہرین تعلیم، طلبا، محققین اور سول سوسائٹی کے معزز افراد نے شرکت کی۔ مرادعلی شاہ نے کہا کہ یہ نمائش اس بات کی واضح یاد دہانی کراتی ہے کہ سندھ ہزاروں سالوں سے علم، شہری منصوبہ بندی اور تخلیقی صلاحیتوں کا گہوارا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی سندھ کی تہذیب دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ہے جو اپنے سائنسی طبع، پائیدار انجینئرنگ، فنون لطیفہ اور دستکاری کے لیے مشہور ہے۔ آج انڈس ڈیلٹا کے گمشدہ شہروں کے افتتاح نے ہمیں ایک بار پھر اپنے شاندار ورثے سے جوڑ دیا ہے جسے جدید، سائنسی انداز میں اپنی نئی نسل کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل