جسٹس ظفر راجپوت نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
حلف برداری کی تقریب میں وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ، وزیر اطلاعات شرجیل میمن، وزیر داخلہ ضیا لنجار، ججز، وکلا رہنما اور سابق ججز بھی شریک ہوئے۔ تقریبِ حلف برداری میں ترکیہ، قطر، اٹلی اور انڈونیشیا کے قونصل جنرل بھی موجود تھے۔ اسلام ٹائمز۔ جسٹس ظفر راجپوت نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے عہدے کا حلف اٹھالیا۔ گورنر ہاؤس کراچی میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کی تقریب حلف برداری منعقد ہوئی جس میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے ان سے حلف لیا۔ تقریب میں وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ، وزیر اطلاعات شرجیل میمن، وزیر داخلہ ضیا لنجار، ججز، وکلا رہنما اور سابق ججز بھی شریک ہوئے۔ تقریبِ حلف برداری میں ترکیہ، قطر، اٹلی اور انڈونیشیا کے قونصل جنرل بھی موجود تھے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل جسٹس ظفر احمد راجپوت بطور قائم مقام چیف جسٹس اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے، گزشتہ روز صدر مملکت نے انکی بطور چیف جسٹس تقرری کے احکامات جاری کیے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حلف برداری چیف جسٹس
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔