امریکا میں افغان تارکین وطن کے سنگین جرائم بے نقاب، متعدد گرفتار، ڈی پورٹیشن کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
امریکی محکمۂ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان سے آنے والے متعدد شہری سنگین جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں، حالانکہ بائیڈن انتظامیہ کا دعویٰ تھا کہ ہزاروں افغان تارکینِ وطن مکمل سیکیورٹی جانچ کے بعد امریکا میں داخل کیے گئے تھے۔
محکمے کے مطابق ایسے کئی افغان تارکینِ وطن کے ہاتھوں تشدد اور جنسی جرائم کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن کا پس منظر غیرتصدیق شدہ تھا۔ ریاست مونٹانا میں زبیح اللہ محمند پر کم عمر لڑکی سے زیادتی کا الزام عائد کیا گیا، جبکہ ریاست وسکونسن میں بَہراللہ نوری کو کم عمر بچی کے خلاف جنسی جرم کی کوشش پر گرفتار کیا گیا۔
محمد ہارون معاد کے خلاف بھی کم عمر بچیوں سے متعلق سنگین مقدمات درج ہیں۔ اسی طرح جاوید احمدی، جو دوسری ڈگری کے حملے کے جرم میں سزا یافتہ ہے، 2025 میں ایک مرتبہ پھر ICE کے ہاتھوں گرفتار ہوا، تاہم سزا کے باوجود اسے ملک میں رہنے کی اجازت دی گئی تھی۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ محمد خروین نامی شخص، جو مبینہ طور پر ’ٹیرر واچ لسٹ‘ میں شامل تھا، 2024 میں گرفتار ہو کر رہا ہوا لیکن ایک سال بعد اسے دوبارہ پکڑا گیا اور اس کے ممکنہ دہشت گرد روابط کی تحقیقات جاری ہیں۔
اوکلاہوما میں عبداللہ حاجی زادہ اور ناصر احمد تاہدے کو الیکشن ڈے حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا گیا، جن کے قبضے سے اسلحہ اور شدت پسند گروہ سے تعلق کے شواہد ملے ہیں۔
ریاست ورجینیا میں ٹریفک اسٹاپ کے دوران فائرنگ میں جمال ولی ہلاک ہوگیا، اور پولیس کے مطابق اس نے طالبان سے وابستگی کا ذکر کیا تھا۔
امریکی محکمۂ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے کہا ہے کہ عوام کو خطرناک اور غیرتصدیق شدہ پس منظر رکھنے والے عناصر سے محفوظ رکھنا ضروری ہے، اور مذکورہ تمام مجرموں کو ان کے آبائی وطن واپس بھیجا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔