وزیر دفاع خواجہ آصف نے اتوار کو غزہ میں امن کے لیے اسرائیل کی وابستگی پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ امن معاہدے کی حمایت کرنے والے مسلم ممالک کو ’اپنی پوزیشن پر دوبارہ غور کرنے‘ کی ضرورت پڑ سکتی ہے، کیوں کہ علاقے میں نازک جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔

اگرچہ اسرائیل اور حماس کے درمیان 9 اکتوبر کو جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اسرائیل نے علاقے پر بمباری جاری رکھی ہے، اور امن کے لیے طویل مدتی منصوبے پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

وزیر دفاع نے آج سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ میں کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے پر ایک طرفہ ہونے کا الزام لگایا گیا ہے، اور اسرائیلی افواج ’معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں فلسطینی، بشمول بچے، مارے جا رہے ہیں‘۔

The ceasefire agreement in Gaza has been criticized for being one-sided, Israeli forces continue to violate the truce, killing Palestinians, including children.

Since the ceasefire took effect on October 10, at least 352 Palestinians have been killed, and over 70,000 people have…

— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) November 29, 2025

خواجہ آصف نے کہا کہ شرم الشیخ میں دستخط کیے گئے اس معاہدے کا مقصد خطے میں استحکام لانا تھا، لیکن اسرائیل کے اقدامات نے اس کی وابستگی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ مسلم ممالک جو اس معاہدے کی حمایت کر چکے ہیں (جن میں ترکی، مصر اور قطر شامل ہیں) کو جاری تشدد کے پیش نظر اپنی پوزیشن پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان پہلے ہی تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں اور کہا ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کو فلسطینی مسئلے کے حتمی حل کے طور پر نہیں سمجھنا چاہیے۔

خواجہ آصف نے نشاندہی کی کہ جب سے 10 اکتوبر کو جنگ بندی نافذ ہوئی، کم از کم 352 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جب کہ تصادم کے آغاز سے اب تک غزہ میں 70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کا نسل کشی کا عمل ختم نہیں ہوا، اور بین الاقوامی برادری خصوصاً مغربی حکومتوں کو اسرائیل پر بین الاقوامی قانون کی پابندی کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے۔

امریکی ثالثی میں طے پانے والے غزہ امن معاہدے کی بنیاد بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) کے قیام پر ہے، جو زیادہ تر مسلم اکثریتی ممالک کے فوجیوں پر مشتمل ہے، تاہم، وہ ممالک جو پہلے اس منصوبے کی حمایت کر چکے تھے، اب تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔

گزشتہ روز ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے کہا کہ پاکستان غزہ امن فورس میں فوجی تعینات کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن حماس کو غیر مسلح کرنے میں حصہ لینے کے لیے تیار نہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ ہم اس کے لیے تیار نہیں ہیں، یہ ہمارا کام نہیں، بلکہ فلسطینی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کام ہے، ہمارا کام امن قائم رکھنا ہے، امن نافذ کرنا نہیں۔

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: معاہدے کی چکے ہیں کے لیے کہا کہ نے کہا کر چکے

پڑھیں:

سابق صدر عارف علوی کے بیٹے کے نام پی این آئی ایل میں شامل کرنے پر وفاقی حکومت کو نوٹس

سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے سابق صدر پاکستان عارف علوی کے بیٹے اواب علوی اور آفتاب جہانگیر کے نام پی این آئی ایل میں دوبارہ شامل کرنے کے خلاف درخواست پر وفاقی حکومت اور دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
درخواست گزاروں نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ عدالت نے پہلے ہی ان دونوں کے نام پی این آئی ایل سے خارج کرنے کا حکم دیا تھا، جس پر عمل بھی ہوا، لیکن عدالتی حکم پر نام نکالنے کے صرف دو گھنٹے بعد دوبارہ انہیں اسی فہرست میں شامل کر دیا گیا۔ درخواست گزاروں کے مطابق یہ اقدام عدالتی حکم کی صریح خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد وفاقی حکومت سمیت تمام متعلقہ فریقین کو 10 دسمبر تک تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیا اور آئینی بینچ نے ہدایت کی کہ اگلی سماعت میں وضاحت پیش کی جائے کہ عدالتی حکم کے باوجود درخواست گزاروں کے نام دوبارہ فہرست میں کیوں شامل کیے گئے۔

 

متعلقہ مضامین

  • فن لینڈ  کاپاکستان سمیت تین ممالک میں سفارتخانے بند کرنے کا اعلان
  • پاکستان اپنی عظمت دوبارہ حاصل کررہا ہے: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز
  • ہمیں جینے نہیں دو گے تو آپ کو بھی جینے نہیں دینگے، اسد قیصر پھٹ پڑے
  • نون لیگ اپنی مضبوط ترقیاتی ساکھ کے باعث دوبارہ سیاسی برتری حاصل کر رہی ہے، ثروت صبا
  • ہم یورپی یونین میں ترکیہ کی شمولیت کے حامی ہیں، جرمنی
  • غزہ؛ فلسطینیوں کی  نسل کشی میں اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ بے نقاب، تجارتی معاہدے سامنے آگئے
  • سابق صدر عارف علوی کے بیٹے کے نام پی این آئی ایل میں شامل کرنے پر وفاقی حکومت کو نوٹس
  • غیر مسلح ہونے کا فیصلہ قومی مذاکرات سے ہوگا، اسرائیل غزہ معاہدے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے، حماس
  • بھارت اور اسرائیل کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کیلئے ٹرمز آف ریفرنس پر دستخط