data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مچھلی کے تیل کو ہمیشہ سے دل کی صحت کے لیے مفید سمجھا جاتا رہا ہے، مگر نئی طبی تحقیق میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ یہ مزاج اور دماغی صحت پر بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔

برٹش جرنل آف نیوٹریشن میں شائع تحقیق کے مطابق اومیگا 3 فیٹی ایسڈز پر مشتمل مچھلی کے تیل کے سپلیمنٹس ڈپریشن کی علامات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

تحقیق میں 67 کلینیکل ٹرائلز کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جس میں ڈپریشن کے شکار افراد کے ساتھ ساتھ ایسے افراد بھی شامل تھے جو ڈپریشن سے محفوظ تھے۔ ان گروپس میں اومیگا 3 کے استعمال (خوراک، سپلیمنٹس یا دونوں) اور اس سے اجتناب کے اثرات کا موازنہ کیا گیا۔

تجزیے سے واضح ہوا کہ مچھلی کے تیل کا استعمال ڈپریشن کی شدت کو نمایاں طور پر کم کرتا ہے، اور ہر ایک گرام اضافی اومیگا 3 فیٹی ایسڈز کے استعمال سے یہ فائدہ مزید بڑھتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ یہ واضح طور پر نہیں بتا سکتے کہ یہ اثر کیسے ہوتا ہے، مگر ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اومیگا 3 خون کے بہاؤ کو بہتر بناتا ہے اور دماغ میں مزاج سے متعلق مرکبات کی فعالیت بڑھاتا ہے۔ البتہ یہ سپلیمنٹس صرف ڈپریشن کے خطرے سے بچاؤ کے لیے اتنے مؤثر نہیں ہیں، بلکہ یہ بنیادی طور پر موجودہ علامات کی شدت کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ روزانہ ایک سے ڈیڑھ گرام اومیگا 3 فیٹی ایسڈز کا استعمال سب سے زیادہ فائدہ مند ہے، اور یہ مقدار مچھلی کے تیل کے کیپسولز یا مچھلی کے گوشت کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ دریافت نہ صرف دل بلکہ دماغی صحت کے لیے بھی مچھلی کے تیل کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے اور روزمرہ کی صحت بخش خوراک میں اسے شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اومیگا 3 کے لیے

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ