مچھلی کے تیل کے کیپسولز، صحت کے لیے حیران کن نیا فائدہ سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مچھلی کے تیل کو ہمیشہ سے دل کی صحت کے لیے مفید سمجھا جاتا رہا ہے، مگر نئی طبی تحقیق میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ یہ مزاج اور دماغی صحت پر بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
برٹش جرنل آف نیوٹریشن میں شائع تحقیق کے مطابق اومیگا 3 فیٹی ایسڈز پر مشتمل مچھلی کے تیل کے سپلیمنٹس ڈپریشن کی علامات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
تحقیق میں 67 کلینیکل ٹرائلز کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جس میں ڈپریشن کے شکار افراد کے ساتھ ساتھ ایسے افراد بھی شامل تھے جو ڈپریشن سے محفوظ تھے۔ ان گروپس میں اومیگا 3 کے استعمال (خوراک، سپلیمنٹس یا دونوں) اور اس سے اجتناب کے اثرات کا موازنہ کیا گیا۔
تجزیے سے واضح ہوا کہ مچھلی کے تیل کا استعمال ڈپریشن کی شدت کو نمایاں طور پر کم کرتا ہے، اور ہر ایک گرام اضافی اومیگا 3 فیٹی ایسڈز کے استعمال سے یہ فائدہ مزید بڑھتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ یہ واضح طور پر نہیں بتا سکتے کہ یہ اثر کیسے ہوتا ہے، مگر ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اومیگا 3 خون کے بہاؤ کو بہتر بناتا ہے اور دماغ میں مزاج سے متعلق مرکبات کی فعالیت بڑھاتا ہے۔ البتہ یہ سپلیمنٹس صرف ڈپریشن کے خطرے سے بچاؤ کے لیے اتنے مؤثر نہیں ہیں، بلکہ یہ بنیادی طور پر موجودہ علامات کی شدت کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ روزانہ ایک سے ڈیڑھ گرام اومیگا 3 فیٹی ایسڈز کا استعمال سب سے زیادہ فائدہ مند ہے، اور یہ مقدار مچھلی کے تیل کے کیپسولز یا مچھلی کے گوشت کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ دریافت نہ صرف دل بلکہ دماغی صحت کے لیے بھی مچھلی کے تیل کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے اور روزمرہ کی صحت بخش خوراک میں اسے شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔