آمدنی میں عدم توازن: بھارت چھٹا بڑا ملک بن گیا، پاکستان کا کونسا نمبر؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
بھارت آمدنی میں عدم توازن رکھنے والا چھٹا بڑا ملک بن گیا۔ جبکہ اس فہرست میں پاکستان کا 24 واں نمبر ہے۔
2026 کی ورلڈ اِن اکوالٹی رپورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق عدم توازن کی اس فہرست میں جنوبی افریقا پہلے نمبر پر ہے۔ یہاں ٹاپ 10 فی صد طبقہ مجموعی آمدنی کا 66 فی صد حصہ کماتا ہے جبکہ باقی نصف نچلے طبقے کی آمدنی صرف 6 فی صد ہے۔
برازیل، میکسیکو، چلی اور کولمبیا جیسے لاطینی امریکی ممالک میں بھی یہی رجحان دیکھا گیا جہاں 10 فی صد امراء کی آمدنی تقریباً 60 فی صد ہے۔
دوسری جانب یورپی ممالک میں یہ تناسب متوازن ہے۔ سوئیڈن اور ناروے میں 50 فی صد نچلے طبقے کی مجموعی آمدنی تقریباً 25 فی صد ہے جبکہ ٹاپ 10 فی صد طبقہ 30 فی صد سے کم آمدنی کماتا ہے۔
آسٹریلیا، کینیڈا، جرمنی، جاپان اور برطانیہ جیسی متعدد ترقی یافتہ معیشتیں متوسط زمرے میں آتی ہیں۔ یہاں ٹاپ 10 فی صد افراد مجموعی آمدنی کا تقریباً 33-47 فی صد کماتے ہیں جبکہ 50 فی صد نچلا طبقہ 16-21 فی صد کماتا ہے۔
ایشیا میں آمدنی کی تقسیم ملی جلی ہے۔ چین، پاکستان اور بنگلادیش میں ٹاپ 10 فی صد طبقہ مجموعی آمدنی کا بالترتیب 43، 42 اور 41 فی صد حصہ کماتا ہے جبکہ باقی 50 فی صد نچلا طبقہ 14، 19 اور 19 فی صد حصہ حاصل پاتا ہے۔
تاہم، دنیا میں مضبوط معیشت کا شور کرنے والا ملک بھارت دنیا کا آمدنی کی غیر منصفانہ تقسیم پر چھٹے نمبر پر ہے، جبکہ ترکیے ساتویں نمبر پر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹاپ 10 فی صد کماتا ہے
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔