اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے نومبر 2025 میں 3.2 ارب ڈالر وطن بھیجے۔ گزشتہ سال نومبر کے مقابلے میں ترسیلات زر میں 9.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، البتہ اکتوبر 2025 کے 3.4 ارب ڈالر کے مقابلے میں ماہانہ بنیادوں پر 7 فیصد کمی ہوئی۔

5MFY26 میں ترسیلات زر 16.

1 ارب ڈالر

مالی سال 2026 کے ابتدائی 5 ماہ (5MFY26) میں ترسیلات زر کا مجموعی حجم 16.1 ارب ڈالر رہا، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 14.8 ارب ڈالر کے مقابلے میں 9.3 فیصد زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے وزیراعظم کا اہم اقدام، ترسیلات زر سہولت اسکیم جاری رکھنے کا فیصلہ

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق ترسیلات زر میں اضافہ گزشتہ برسوں میں افرادی قوت کی بیرون ملک برآمد، رسمی اور غیر رسمی مارکیٹ کے درمیان کم شرحِ فرق، اور حکومتی ترغیبات کی بدولت ممکن ہوا۔

ادارے نے اپنے تجزیے میں کہا کہ وہ مالی سال 2026 کے لیے 41 ارب ڈالر کے ہدف کو برقرار رکھے ہوئے ہیں، جو FY25 کی 38 ارب ڈالر ترسیلات کے مقابلے میں 7.5 فیصد زیادہ ہے۔

یو اے ای سے ترسیلات میں تیزی

جے ایس گلوبل کے وقاص غنی کے مطابق، نومبر 2025 میں متحدہ عرب امارات سے ترسیلات کا حصہ بڑھ کر 21 فیصد ہو گیا، جو گزشتہ سال 18 فیصد تھا۔ انہوں نے بتایا کہ دبئی میں پاکستانی تارکینِ وطن کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم میں مستقل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

جے ایس گلوبل کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اور یو اے ای سے آنے والی ترسیلات مجموعی ترسیلات زر کا 45 فیصد رہیں، جو گزشتہ 2 سال کے اوسط 44 فیصد سے کچھ زیادہ ہے۔

معاشی اہمیت

ترسیلات زر پاکستان کے بیرونی کھاتے کے استحکام، معاشی سرگرمیوں میں بہتری اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے خاندانوں کی آمدنی میں اضافے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ حکومت ان رقوم کو رسمی ذرائع سے ملک میں لانے کے لیے مراعات اور مختلف سہولتیں فراہم کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے گزشتہ مالی سال میں ترسیلات زر ریکارڈ بلند سطح پر، وزیراعظم کا اظہار تشکر

اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان ریمیٹنس انیشی ایٹو (PRI) کی بدولت 2009 میں 25 مالیاتی ادارے اس نظام کا حصہ تھے، جو 2024 تک بڑھ کر 50 سے زائد ہو چکے ہیں، جبکہ بین الاقوامی اداروں کی تعداد 45 سے بڑھ کر 400 تک پہنچ گئی ہے۔

نومبر 2025 میں مختلف ممالک سے موصول ہونے والی ترسیلات

سعودی عرب: 753 ملین ڈالر

سالانہ بنیادوں پر 3٪ اضافہ، مگر گزشتہ سال کے 838 ملین ڈالر سے کم

متحدہ عرب امارات: 675 ملین ڈالر

سالانہ 9٪ اضافہ

برطانیہ: 481 ملین ڈالر

اکتوبر کے مقابلے میں 4٪ کمی لیکن سالانہ 17٪ اضافہ

امریکا: 277 ملین ڈالر

سالانہ 4٪ کمی، ماہانہ 8٪ کمی

یورپی یونین ممالک: 417 ملین ڈالر

سالانہ 29٪ اضافہ

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ترسیلات زر

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ترسیلات زر ملین ڈالر سالانہ میں ترسیلات زر کے مقابلے میں ارب ڈالر مالی سال کے مطابق

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔

بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف