آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کا اطلاق ہوگیا۔

اب آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر کے بچے انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور فیس بک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم استعمال نہیں کرسکیں گے۔

خلاف ورزی کی صورت میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 3 کروڑ 30 لاکھ امریکی ڈالرز کا جرمانہ ہوگا۔

خیال رہے کہ آسٹریلیا بچوں پر سوشل میڈیا پابندی لگانے والا دنیا کا پہلا ملک ہے۔

آسٹریلیا کی حکومت نے گزشتہ سال نومبر میں 16 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے استعمال سے روکنے کے لیے قانون سازی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ایک پریس کانفرنس کے دوران آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نےکہا تھا کہ سوشل میڈیا ہمارے بچوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

اس موقع پر انہوں نے مختلف تحقیقی رپورٹس کا حوالہ دیا جن میں کہا گیا تھا کہ سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وقت گزارنے سے بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کو مختلف خطرات کا سامنا ہوتا ہے۔

انتھونی البانیز کا کہنا تھا کہ یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ذمہ داری ہے کہ وہ ذمہ دارانہ اقدامات کے ذریعے رسائی کی روک تھام کریں، یہ والدین یا بچوں کی ذمہ داری نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا سال سے

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا