آسٹریلیامیں نیا قانون نافذ: 16سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کینبرا: آسٹریلیامیں 16سال سے کم عمر بچوں کے لئے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کا قانون نافذ ہوگیا ۔
پابندی کے تحت 16سال سے کم عمر بچوں کے لئے ٹک ٹاک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور فیس بک سمیت بڑی سوشل میڈیا ویب سائٹس کا استعمال مکمل طور پر ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔
آسٹریلیا میں نئی قانون سازی کے تحت 10 بڑی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 16 سال سے کم عمر بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی فوری طور پر بند کر دیں۔
آسٹریلوی حکومت کے مطابق پابندی سے قبل ملک میں 8 سے 15 سال کی عمر کے 86 فیصد بچے سوشل میڈیا استعمال کر رہے تھے۔
آسٹریلوی حکومت کا کہنا ہے کہ پابندی نہ لگانے کی صورت میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو 4 کروڑ 95 لاکھ آسٹریلین ڈالر تک کے بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں آسٹریلوی وزیراعظم نےنومبر2024 میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی عائد کرنے تجویز پیش کی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔