Express News:
2026-07-24@01:20:58 GMT

ایک کھلا خط

اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان اور سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پاک فوج کے ترجمان کے نام ایک کھلا خط جاری کیا ہے۔ اس خط کے مندرجات پر بات کرنے سے پہلے یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں، شیخ وقاص اکرم کا موقف ہے کہ تحر یک انصاف کا باقاعدہ موقف جاری کرنے کا اختیار صرف ان کے پاس ہے۔

ان کے مطابق آپ سوشل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارمز سے جو موقف حا صل کرتے ہیں، وہ درست نہیں۔ درست موقف صرف وہ جاری کر سکتے ہیں۔ اس طرح میں سمجھتا ہوں، اگر وہ تحریک انصاف کے باقاعدہ ترجمان ہیں تو ان کا یہ کھلا خط تحریک انصاف کے باقاعدہ موقف کا عکاس ہے۔اس خط کا پہلا جملہ ہی دلچسپ ہے۔ وہ پاک فوج کے ترجمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم بھی اتنے ہی محب وطن پا کستانی ہیں، جتنے آپ ہیں۔

 اب اگر تحریک انصاف کی یہ پالیسی ہے تو پھرلڑائی ختم ہوجاتی۔ لڑائی تو شروع ہی تب ہوئی جب پی ٹی آئی نے لوگوں کو میر جعفر، میر صادق اور جانور قرار دینا شروع کر دیا۔ پہلے جنرل باجوہ کے دور میں میر جعفر اور میر صادق کی ٹرم استعمال کی گئی۔ اب این ڈی یو کی نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ میں شرکت کرنے والے اپنے ہی لوگوں کو میر جعفر اور میر صادق قرار دے دیا ۔ سوال یہ ہے کہ اگر سب محب وطن ہیں تو پھر میر جعفر اور میر صادق کہاں سے آگئے۔ میں نے پورا خط پڑھا ہے۔ اس میں اس سوال کا جواب کہیں موجود نہیں تھا۔

 تحریک انصاف اپنے مخالفین کو ملک دشمن اور دیگر القاب دینے میں ماہر ہے۔ لیکن اب جب ان کے لیڈر کو نیشنل سیکیورٹی تھریٹ قرار دیا گیا ہے، ان پر بھارتی پراپیگنڈا آگے بڑھانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ تو انھیں فوری یاد آگیا ہے کہ وہ بھی محب وطن ہیں اور اسٹیبلشمنٹ بھی محب وطن ہے۔ اس کو کہتے ہیں، بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے۔ کل تک نیوٹرل کو جانور قرار دینے والے آج اداروں سے نیوٹرل ہونے کی فریاد کر رہے ہیں۔ اس کو کہتے ہیں مکافات عمل ۔

شیخ وقاص اکرم اس خط میں مزید لکھتے ہیں کہ کیا کوئی پاکستانی یا کوئی سیاسی جماعت یہ سوچ بھی سکتی ہے کہ اس کا بیانیہ وطن عزیز کے خلاف ہو۔ یہ اچھی بات ہے لیکن پھر بھارتی میڈیا کو انٹرویو دینے کا پلان کس کا تھا؟ یہ بھی بتا دیں۔

پاکستان کے دشمن کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف باتیں کرنے کا منصوبہ کس کا تھا؟ تحریک انصاف کا سوشل میڈیا اور بھارتی میڈیا ، پاک فوج کے خلاف یک زبان کیسے ہیں؟ بھارتی میڈیا اور تحریک انصاف کا سوشل میڈیاکورس کی شکل میں پاک فوج کے خلاف پراپیگنڈا کیسے کرتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں پاکستان کی ہر سیاسی جماعت کی پالیسی یہی ہونی چاہیے جو اس خط میں بیان کی گئی ہے لیکن پالیسی پر عمل ہوتا بھی نظر آنا چاہیے۔

 بھارتی میڈیا پر جا کر پاک فوج کی قیادت کے خلاف انٹرویوز کوکہاں لے جائیں؟ اس کو کس کوڑے دان میں پھینکیں، یہ بھی بتا دیا جائے۔ اگر اس خط میں اس کی بھی مذمت کی جاتی، اس سے لاتعلقی کا اعلان کیا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا اور خط زیادہ پر اثر ہوتا۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ اگر تحریک انصاف سے پاکستان کو جدا کر دیا جائے تو ہم کچھ نہیں رہتے۔ اس سے ثابت ہوا کہ پاکستان ہی ہماری اصل پہچان اور شان ہے۔

پاکستان ہے تو سیاسی جماعتوں کی سیاست ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ افوج پاکستان سے پاکستان کو الگ کر دیا جائے تو پاکستان کی شان باقی نہیں رہتی تو پھر فوج کے خلاف پراپیگنڈا کیوں؟ پھر فوجی قیادت کے خلاف پراپیگنڈا کیوں؟۔ جب مودی کے جذبات اور بانی تحریک انصاف کے جذبات ایک ہو جائیں تو کیا کریں۔ جب جے شنکر اور تحریک انصاف ایک زبان بولیں تو کیا کہیں۔ یہ بھی تو سمجھا دیں۔ بھارتی میڈیا کو تو پاک فوج سے دشمنی سمجھ آتی ہے، سوال یہ ہے کہ آپ اس کا ایندھن کیوں بن رہے ہیں۔

 میں شیخ وقاص اکرم کے خط کو عمومی طور پر ایک مثبت خط سمجھتا ہوں۔ حالانکہ میں انھیں ایک بے اختیار ترجمان سمجھتا ہوں۔کیونکہ تحریک انصاف کا سوشل میڈیا انھیں بھی بہت کچھ کہتا ہے۔ آجکل ان کے خلاف بھی سوشل میڈیا مہم چل رہی ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ خط انھوں نے ذاتی حیثیت میں نہیں لکھا ہوگا۔ اسے تحریک انصاف پاکستان کی پارٹی پالیسی قرار دیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ خط بانی تحریک انصاف کی پالیسی نہیں قرار دیا جا سکتا۔ مجھے قوی امید ہے کہ اس خط کی شکائت بھی بانی تحریک انصاف کو پہنچائی جائے گی، پھر خطرہ ہے کہیں شیخ وقاص اکرم کو بھی این ڈی یو کی ورکشاپ میں شرکت کرنے والوں کی صف میں شامل قرار نہ دے دیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تحریک انصاف کے شیخ وقاص اکرم بھارتی میڈیا سوشل میڈیا سمجھتا ہوں پاک فوج کے انصاف کا دیا جائے ا گیا ہے کے خلاف ہے کہ ا

پڑھیں:

وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار

سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو