Express News:
2026-06-02@22:46:21 GMT

ایک کھلا خط

اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان اور سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پاک فوج کے ترجمان کے نام ایک کھلا خط جاری کیا ہے۔ اس خط کے مندرجات پر بات کرنے سے پہلے یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں، شیخ وقاص اکرم کا موقف ہے کہ تحر یک انصاف کا باقاعدہ موقف جاری کرنے کا اختیار صرف ان کے پاس ہے۔

ان کے مطابق آپ سوشل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارمز سے جو موقف حا صل کرتے ہیں، وہ درست نہیں۔ درست موقف صرف وہ جاری کر سکتے ہیں۔ اس طرح میں سمجھتا ہوں، اگر وہ تحریک انصاف کے باقاعدہ ترجمان ہیں تو ان کا یہ کھلا خط تحریک انصاف کے باقاعدہ موقف کا عکاس ہے۔اس خط کا پہلا جملہ ہی دلچسپ ہے۔ وہ پاک فوج کے ترجمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم بھی اتنے ہی محب وطن پا کستانی ہیں، جتنے آپ ہیں۔

 اب اگر تحریک انصاف کی یہ پالیسی ہے تو پھرلڑائی ختم ہوجاتی۔ لڑائی تو شروع ہی تب ہوئی جب پی ٹی آئی نے لوگوں کو میر جعفر، میر صادق اور جانور قرار دینا شروع کر دیا۔ پہلے جنرل باجوہ کے دور میں میر جعفر اور میر صادق کی ٹرم استعمال کی گئی۔ اب این ڈی یو کی نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ میں شرکت کرنے والے اپنے ہی لوگوں کو میر جعفر اور میر صادق قرار دے دیا ۔ سوال یہ ہے کہ اگر سب محب وطن ہیں تو پھر میر جعفر اور میر صادق کہاں سے آگئے۔ میں نے پورا خط پڑھا ہے۔ اس میں اس سوال کا جواب کہیں موجود نہیں تھا۔

 تحریک انصاف اپنے مخالفین کو ملک دشمن اور دیگر القاب دینے میں ماہر ہے۔ لیکن اب جب ان کے لیڈر کو نیشنل سیکیورٹی تھریٹ قرار دیا گیا ہے، ان پر بھارتی پراپیگنڈا آگے بڑھانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ تو انھیں فوری یاد آگیا ہے کہ وہ بھی محب وطن ہیں اور اسٹیبلشمنٹ بھی محب وطن ہے۔ اس کو کہتے ہیں، بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے۔ کل تک نیوٹرل کو جانور قرار دینے والے آج اداروں سے نیوٹرل ہونے کی فریاد کر رہے ہیں۔ اس کو کہتے ہیں مکافات عمل ۔

شیخ وقاص اکرم اس خط میں مزید لکھتے ہیں کہ کیا کوئی پاکستانی یا کوئی سیاسی جماعت یہ سوچ بھی سکتی ہے کہ اس کا بیانیہ وطن عزیز کے خلاف ہو۔ یہ اچھی بات ہے لیکن پھر بھارتی میڈیا کو انٹرویو دینے کا پلان کس کا تھا؟ یہ بھی بتا دیں۔

پاکستان کے دشمن کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف باتیں کرنے کا منصوبہ کس کا تھا؟ تحریک انصاف کا سوشل میڈیا اور بھارتی میڈیا ، پاک فوج کے خلاف یک زبان کیسے ہیں؟ بھارتی میڈیا اور تحریک انصاف کا سوشل میڈیاکورس کی شکل میں پاک فوج کے خلاف پراپیگنڈا کیسے کرتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں پاکستان کی ہر سیاسی جماعت کی پالیسی یہی ہونی چاہیے جو اس خط میں بیان کی گئی ہے لیکن پالیسی پر عمل ہوتا بھی نظر آنا چاہیے۔

 بھارتی میڈیا پر جا کر پاک فوج کی قیادت کے خلاف انٹرویوز کوکہاں لے جائیں؟ اس کو کس کوڑے دان میں پھینکیں، یہ بھی بتا دیا جائے۔ اگر اس خط میں اس کی بھی مذمت کی جاتی، اس سے لاتعلقی کا اعلان کیا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا اور خط زیادہ پر اثر ہوتا۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ اگر تحریک انصاف سے پاکستان کو جدا کر دیا جائے تو ہم کچھ نہیں رہتے۔ اس سے ثابت ہوا کہ پاکستان ہی ہماری اصل پہچان اور شان ہے۔

پاکستان ہے تو سیاسی جماعتوں کی سیاست ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ افوج پاکستان سے پاکستان کو الگ کر دیا جائے تو پاکستان کی شان باقی نہیں رہتی تو پھر فوج کے خلاف پراپیگنڈا کیوں؟ پھر فوجی قیادت کے خلاف پراپیگنڈا کیوں؟۔ جب مودی کے جذبات اور بانی تحریک انصاف کے جذبات ایک ہو جائیں تو کیا کریں۔ جب جے شنکر اور تحریک انصاف ایک زبان بولیں تو کیا کہیں۔ یہ بھی تو سمجھا دیں۔ بھارتی میڈیا کو تو پاک فوج سے دشمنی سمجھ آتی ہے، سوال یہ ہے کہ آپ اس کا ایندھن کیوں بن رہے ہیں۔

 میں شیخ وقاص اکرم کے خط کو عمومی طور پر ایک مثبت خط سمجھتا ہوں۔ حالانکہ میں انھیں ایک بے اختیار ترجمان سمجھتا ہوں۔کیونکہ تحریک انصاف کا سوشل میڈیا انھیں بھی بہت کچھ کہتا ہے۔ آجکل ان کے خلاف بھی سوشل میڈیا مہم چل رہی ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ خط انھوں نے ذاتی حیثیت میں نہیں لکھا ہوگا۔ اسے تحریک انصاف پاکستان کی پارٹی پالیسی قرار دیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ خط بانی تحریک انصاف کی پالیسی نہیں قرار دیا جا سکتا۔ مجھے قوی امید ہے کہ اس خط کی شکائت بھی بانی تحریک انصاف کو پہنچائی جائے گی، پھر خطرہ ہے کہیں شیخ وقاص اکرم کو بھی این ڈی یو کی ورکشاپ میں شرکت کرنے والوں کی صف میں شامل قرار نہ دے دیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تحریک انصاف کے شیخ وقاص اکرم بھارتی میڈیا سوشل میڈیا سمجھتا ہوں پاک فوج کے انصاف کا دیا جائے ا گیا ہے کے خلاف ہے کہ ا

پڑھیں:

دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا

تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کے دوسرے میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کے لیے 232 رنز کا ہدف دے دیا۔لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ میں پاکستان کے کپتان شاہین آفریدی نے ٹاس جیت کر آسٹریلیا کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔مہمان ٹیم نے پہلےکھیلتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹ پر 231 رنز اسکور کیے۔آسٹریلیا کی جانب سے کیمرون گرین 53، جوش انگلس 51 اور میٹ رنشا 43 رنز بنا کر نمایاں رہے۔پاکستان کی جانب سے کپتان شاہین آفریدی نے 3 جب کہ حارث رؤف ، عرفات منہاس اور ابرار احمد نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف پہلا ون ڈے جیتنے والی ٹیم کو ہی برقرار رکھا ہے۔خیال رہے کہ پہلے ایک روزہ میچ میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 5 وکٹ سے شکست دی تھی، تین ایک روزہ میچوں کی سیریز میں پاکستان کو ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل