صدر مملکت نے انڈونیشیا کے صدر کو ’نشان پاکستان‘ سے نواز دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
صدر مملکت آصف علی زرداری نے انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو کو نشانِ پاکستان عطا کردیا، دونوں ممالک نے امن اور خوش حالی کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
اسلام آباد میں ایوانِ صدر میں منعقدہ خصوصی تقریب میں صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے دورہ پاکستان پر آئے ہوئے انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو کو ملک کا اعلیٰ ترین سول اعزاز نشانِ پاکستان پیش کیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور انڈونیشیا کا ترجیحی تجارتی معاہدے پر نظر ثانی پر اتفاق
تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور اعلیٰ عسکری حکام بھی شریک تھے۔
ایوانِ صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق دونوں صدور نے ملاقات کے دوران پاکستان اور انڈونیشیا کے دیرینہ تعلقات، مشترکہ اقدار اور تاریخی روابط پر بات چیت کی، جبکہ باہمی تعاون کو امن، استحکام اور ترقی کے لیے مزید مؤثر بنانے پر مکمل اتفاق کیا۔
صدرِ پاکستان نے انڈونیشیا کے صوبہ سوماترا میں حالیہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لیے دعائے مغفرت اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔
ملاقات میں دونوں ممالک نے بین المذاہب ہم آہنگی، برداشت اور مشترکہ ترقی کی شراکت داری کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ تجارت میں اضافے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس میں توازن اور تنوع لانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا، جبکہ مشترکہ تجارتی کمیٹی کو اقتصادی روابط بڑھانے کے لیے مؤثر فورم قرار دیا گیا۔
پاکستان اور انڈونیشیا نے آئی ٹی، زراعت، توانائی اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون وسیع کرنے پر اتفاق کیا، اور موسمیاتی تبدیلی، آفات سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔ دفاعی شعبے میں تربیت، اشتراکِ عمل اور مشترکہ پیداوار کو بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ دونوں صدور نے اسلاموفوبیا کے خلاف مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان 7 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ
صدر آصف علی زرداری نے خطے میں امن و استحکام کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے انڈونیشیا کے صدر کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتِ حال سے بھی آگاہ کیا۔
آخر میں توسیعی اجلاس ہوا جس میں وزرا، اعلیٰ حکام اور عسکری قیادت نے شرکت کی، جبکہ مہمانِ صدر کے اعزاز میں ایوانِ صدر میں پرتکلف عشائیہ بھی دیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آصف علی زرداری انڈونیشیا صدر مملکت نشان پاکستان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا صف علی زرداری انڈونیشیا صدر مملکت نشان پاکستان وی نیوز پاکستان اور انڈونیشیا انڈونیشیا کے صدر علی زرداری اتفاق کیا کا اظہار کے لیے
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔